Showing posts with label نادر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label نادر لکھنوی. Show all posts

Wednesday, 18 October 2023

دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیں

 زعفرانی غزل


دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیں

ہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیں 

نہیں لکھتے ہیں خط جو ہم کو وہ قاصد

کسی کے سکھائے پڑھائے ہوئے ہیں

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار نہ تلوار ان سے

"یہ بازو مِرے آزمائے ہوئے ہیں"

Tuesday, 20 September 2022

تشریف شب وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیں

 تشریف شبِ وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیں 

سر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیں 

رُخ پر جو سِیہ زُلف کو بِکھرائے ہوئے ہیں 

وہ چودھویں کے چاند ہیں گہنائے ہوئے ہیں 

پُھولوں سے سوا ہے بدنِ پاک میں خُوشبو 

کب عطر لگانے سے وہ اِترائے ہوئے ہیں

Thursday, 8 September 2022

پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیں

پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیں

مَل کر وہ عطر باغ میں اِترائے جاتے ہیں

اے دل! قرار صبر ہے لازم فراق میں

بیتابیوں سے کیا وہ تِری آئے جاتے ہیں

آئے ہیں دن بہار کے صیاد کہہ رہا

طائر قفس میں باغ کے گھبرائے جاتے ہیں

Saturday, 3 September 2022

دل مجھے کفر آشنا نہ کرے

 دل مجھے کفر آشنا نہ کرے

بندہ بُت کا ہوں میں خدا نہ کرے

کاٹتی ہے پتنگ غیروں کی

ہم سے تُکل تِرے اڑا نہ کرے

صلح منظور ہے اگر تم کو

آنکھ اغیار سے لڑا نہ کرے

Tuesday, 1 March 2022

ہیں ترے ہجر میں بوجھل در و دیوار الگ

 ہیں تِرے ہجر میں بوجھل در و دیوار الگ

خوں رلاتا ہے ہمیں یہ دلِ بیمار الگ

جس سے ہوتا ہے اگر یار سے اک یار الگ

ایسے دستور سے ہو جاتے ہیں اس بار الگ

تم جو دیتے ہو مجھے دکھ وہ زیادہ تو نہیں

مجھ پہ کچھ اور کرم کرتے ہیں اغیار الگ

Tuesday, 22 December 2020

سر کٹا کر صفت شمع جو مر جاتے ہیں

 سر کٹا کر صفتِ شمع جو مر جاتے ہیں

نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں

لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہونگے جواں

جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں

جنبشِ تیغِ نِگہ کی نہیں حاجت اصلاً

کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں