زعفرانی غزل
دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیں
ہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیں
نہیں لکھتے ہیں خط جو ہم کو وہ قاصد
کسی کے سکھائے پڑھائے ہوئے ہیں
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار نہ تلوار ان سے
"یہ بازو مِرے آزمائے ہوئے ہیں"
زعفرانی غزل
دل آنکھوں سے عاشق بچائے ہوئے ہیں
ہرن کو وہ چیتا بنائے ہوئے ہیں
نہیں لکھتے ہیں خط جو ہم کو وہ قاصد
کسی کے سکھائے پڑھائے ہوئے ہیں
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار نہ تلوار ان سے
"یہ بازو مِرے آزمائے ہوئے ہیں"
تشریف شبِ وعدہ جو وہ لائے ہوئے ہیں
سر خم ہے نظر نیچی ہے شرمائے ہوئے ہیں
رُخ پر جو سِیہ زُلف کو بِکھرائے ہوئے ہیں
وہ چودھویں کے چاند ہیں گہنائے ہوئے ہیں
پُھولوں سے سوا ہے بدنِ پاک میں خُوشبو
کب عطر لگانے سے وہ اِترائے ہوئے ہیں
پھولوں کو اپنے پاؤں سے ٹھکرائے جاتے ہیں
مَل کر وہ عطر باغ میں اِترائے جاتے ہیں
اے دل! قرار صبر ہے لازم فراق میں
بیتابیوں سے کیا وہ تِری آئے جاتے ہیں
آئے ہیں دن بہار کے صیاد کہہ رہا
طائر قفس میں باغ کے گھبرائے جاتے ہیں
دل مجھے کفر آشنا نہ کرے
بندہ بُت کا ہوں میں خدا نہ کرے
کاٹتی ہے پتنگ غیروں کی
ہم سے تُکل تِرے اڑا نہ کرے
صلح منظور ہے اگر تم کو
آنکھ اغیار سے لڑا نہ کرے
ہیں تِرے ہجر میں بوجھل در و دیوار الگ
خوں رلاتا ہے ہمیں یہ دلِ بیمار الگ
جس سے ہوتا ہے اگر یار سے اک یار الگ
ایسے دستور سے ہو جاتے ہیں اس بار الگ
تم جو دیتے ہو مجھے دکھ وہ زیادہ تو نہیں
مجھ پہ کچھ اور کرم کرتے ہیں اغیار الگ
سر کٹا کر صفتِ شمع جو مر جاتے ہیں
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں
لاکھوں کا خون بہائیں گے وہ جب ہونگے جواں
جو لڑکپن میں لہو دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
جنبشِ تیغِ نِگہ کی نہیں حاجت اصلاً
کام میرا وہ اشاروں ہی میں کر جاتے ہیں