ہم نہیں اتنے بُرے وہ جو بُرا کہتے ہیں
لوگ وہ بھی ہیں جو پتھر کو خُدا کہتے ہیں
ڈُوب جاتی ہے کنارے پہ جو کشتی آ کر
کہنے والے اسے قسمت کا لِکھا کہتے ہیں
بے وفا تم ہمیں جانو، کہ ستمگر جانو
ہم تمہیں جانِ ادا، جانِ وفا کہتے ہیں
ہم نہیں اتنے بُرے وہ جو بُرا کہتے ہیں
لوگ وہ بھی ہیں جو پتھر کو خُدا کہتے ہیں
ڈُوب جاتی ہے کنارے پہ جو کشتی آ کر
کہنے والے اسے قسمت کا لِکھا کہتے ہیں
بے وفا تم ہمیں جانو، کہ ستمگر جانو
ہم تمہیں جانِ ادا، جانِ وفا کہتے ہیں
کیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیں
ان سے ملنے کی کوئی آس نہیں
دل کہیں ہے کہیں ہے لخت جگر
آج کوئی بھی میرے پاس نہیں
لے گیا کون میرا صبر و قرار
اب ٹھکانے مِرے حواس نہیں