Showing posts with label عالم بریلوی. Show all posts
Showing posts with label عالم بریلوی. Show all posts

Saturday, 5 September 2026

ہم نہیں اتنے برے وہ جو برا کہتے ہیں

 ہم نہیں اتنے بُرے وہ جو بُرا کہتے ہیں

لوگ وہ بھی ہیں جو پتھر کو خُدا کہتے ہیں

ڈُوب جاتی ہے کنارے پہ جو کشتی آ کر

کہنے والے اسے قسمت کا لِکھا کہتے ہیں

بے وفا تم ہمیں جانو، کہ ستمگر جانو

ہم تمہیں جانِ ادا، جانِ وفا کہتے ہیں

Tuesday, 23 March 2021

کیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیں

کیسے کہہ دوں کہ جی اداس نہیں

ان سے ملنے کی کوئی آس نہیں

دل کہیں ہے کہیں ہے لخت جگر

آج کوئی بھی میرے پاس نہیں

لے گیا کون میرا صبر و قرار

اب ٹھکانے مِرے حواس نہیں