Showing posts with label فرحت کانپوری. Show all posts
Showing posts with label فرحت کانپوری. Show all posts

Monday, 19 October 2020

وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیے

 وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے، وہ مہکی جوانی کیا کہیے

وہ کیف میں ڈوبے لمحوں کی اب رات سہانی کیا کہیے 

الجھی ہوئی زلفیں خواب اثر بدمست نگاہیں وجہ بقا 

دنیا سے مگر امکان شب اسرار و معانی کیا کہیے 

روداد محبت سن سن کر خود حسن کو بھی نیند آنے لگی 

اب اور کہاں سے لائیں دل اب اور کہانی کیا کہیے 

Saturday, 17 October 2020

مجھ کو فلک فلک نہیں مجھ کو زمیں زمیں نہیں

 مجھ کو فلک فلک نہیں، مجھ کو زمیں زمیں نہیں

محفلِ دو جہاں ہے ہیچ، ایک اگر تمہیں نہیں

زاہدِ مے پرست کو، ہم نے بھی تاڑ ہی لیا

اصل میں 'ہاں' سے کم نہیں اس کی یہ سب نہیں نہیں

یہ بھی ہے شانِ عاشقی، میرے خلوصِ عشق پر

سارے جہاں کو ہے یقیں، تم کو مگر یقیں نہیں

Friday, 16 October 2020

منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہے

 منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہے 

یہ دل کا میٹھا میٹھا درد بھی گونگے کا سا سپنا ہے 

یا رخ کو ہوا کے پھیر دے تو یا رخ پہ ہوا کے بہتا چل

سنسار کھپا لے اپنے میں، سنسار میں ورنہ کھپنا ہے

مرنا ہی نہیں یہ جینا ہے یہ پریم کی جوالا ہے جس میں

چاندی کی طرح سے گلنا ہے سونے کی طرح سے تپنا ہے

Thursday, 15 October 2020

نہ میں پیر ہوں نہ جوان ہوں نہ جوان ہوں نہ میں پیر ہوں

 نہ میں پیر ہوں نہ جوان ہوں، نہ جوان ہوں نہ میں پیر ہوں

جو نکل گیا ہے کمان سے، میں وہ عمر رفتہ کا تیر ہوں

مِرا اور کون نظیر ہے؟ میں خود آپ اپنی نظیر ہوں

نہ رہا ہو جس کا ضمیر ہی، اسی قوم کا ہی ضمیر ہوں

نہ میں شیخ و مرشد و پیر ہوں، نہ لکیر کا ہی فقیر ہوں

میں چلوں گا اپنی ہی راہ پر، کہ وطن کا قلب و ضمیر ہوں

ملا ہے جسم کہ اس کا گماں ملا ہے مجھے

 ملا ہے جسم کہ اس کا گماں ملا ہے مجھے

وہ ہاتھ آ کے بھی اکثر کہاں ملا ہے مجھے

میں صرف دیکھ ہی سکتا ہوں چشم ساحل سے

کہ وہ بدن عجب آب رواں ملا ہے مجھے

فروخت کر کے خسارے میں آ گیا بازار

تو سوچ لو کہ وہ کتنا گراں ملا ہے مجھے

آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر

 آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر

دل ہی میں نہ رہ جاؤ آنکھوں سے نہاں ہو کر

ہاں لب پہ بھی آ جاؤ، انداز بیاں ہو کر

آنکھوں میں بھی آ جاؤ اب دل کی زباں ہو کر

کھل جاؤ کبھی مجھ سے، مل جاؤ کبھی مجھ کو

رہتے ہو مِرے دل میں الفت کا گماں ہو کر

Wednesday, 14 October 2020

ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیں

 ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیں

سلیقے سے شمس و قمر دیکھتے ہیں

پہنچنا ہے دل تک نظر دیکھتے ہیں

کدھر دیکھنا تھا، کدھر دیکھتے ہیں

محبت کا ان پر اثر دیکھتے ہیں

ملا کر نظر سے نظر دیکھتے ہیں

وصل کے لمحے کہانی ہو گئے

 وصل کے لمحے کہانی ہو گئے

شب کے موتی صبح پانی ہو گئے

رفتہ رفتہ زندگانی ہو گئے

غم کے لمحے جاودانی ہو گئے

دولت عہد جوانی ہو گئے

چند لمحے جو کہانی ہو گئے

میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گا

 میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گا

عالم دلِ برباد کا برباد رہے گا 

تا دیر جو ہنگامۂ فریاد رہے گا 

شک ہے کہ کہیں عالم ایجاد رہے گا 

پابندئ اقدار میں آزاد رہے گا 

لیکن یہ تِرا جور و ستم یاد رہے گا 

کوئی بھی ہمسفر نہیں ہوتا

 کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتا

درد کیوں رات بھر نہیں ہوتا

راہ دل خودبخود ہے مل جاتی

کوئی بھی راہبر نہیں ہوتا

آہ کا بھی نہ ذکر کر اے دل

آہ میں بھی اثر نہیں ہوتا