Thursday, 15 October 2020

نہ میں پیر ہوں نہ جوان ہوں نہ جوان ہوں نہ میں پیر ہوں

 نہ میں پیر ہوں نہ جوان ہوں، نہ جوان ہوں نہ میں پیر ہوں

جو نکل گیا ہے کمان سے، میں وہ عمر رفتہ کا تیر ہوں

مِرا اور کون نظیر ہے؟ میں خود آپ اپنی نظیر ہوں

نہ رہا ہو جس کا ضمیر ہی، اسی قوم کا ہی ضمیر ہوں

نہ میں شیخ و مرشد و پیر ہوں، نہ لکیر کا ہی فقیر ہوں

میں چلوں گا اپنی ہی راہ پر، کہ وطن کا قلب و ضمیر ہوں

نہ جنون ہی کا میں رام ہوں، نہ خِرد ہی کا میں غلام ہوں

یہی ایک میرا کمال ہے، کہ کمال کا میں اسیر ہوں


فرحت کانپوری

No comments:

Post a Comment