Showing posts with label احسان اصغر. Show all posts
Showing posts with label احسان اصغر. Show all posts

Saturday, 15 January 2022

گمشدہ آواز کا ماتم

 گمشدہ آواز کا ماتم


الماری میں قید آواز

چوراہے تک پہنچنا چاہتی ہے

اور چوراہے سے اٹھنے والا گریہ

واپس پہاڑی بستیوں میں

دل اس درد کی موج تک

Monday, 7 June 2021

یہ جو منظر ہے بآسانی بدل سکتا ہے

 یہ جو منظر ہے بآسانی بدل سکتا ہے

تیرا آنا مِری حیرانی بدل سکتا ہے

ہوتی آئی ہے صحائف میں یہاں تبدیلی

دیکھتے دیکھتے یہ پانی بدل سکتا ہے

میں پریشاں ہوں مگر تجھ سے زیادہ تو نہیں

مجھ سے تُو اپنی پریشانی بدل سکتا ہے

Monday, 26 April 2021

مرگ مسلسل کی راتوں میں

 مرگِ مسلسل کی راتوں میں


دُھن چھِڑتی ہے

سنسان دریچوں کے باہر

جہاں کوئی چراغ نہیں جلتا

جہاں کوئی امید نہیں جگتی

ان راتوں میں

Thursday, 22 April 2021

بکھرے ہوئے لمحات کہیں جمع تو ہو لیں

بکھرے ہوئے لمحات کہیں جمع تو ہو لیں

پھر ہم بھی کہیں شعر، لبِ سوختہ کھولیں

اک خواب ہے اور اتنا المناک و حزیں

جی چاہتا ہے آنکھ میں اک خار چبھو لیں

افلاس کی یہ برف پگھلنے کی نہیں ہے

جو چپ ہیں وہ ٹھٹھرتے ہوئے افراد بھی بولیں

Wednesday, 21 April 2021

ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا

 ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا

پر اور کہیں بنا رہا تھا

اس بُت نے جہاں بنایا تھا بُت

میں برسوں وہیں بنا رہا تھا

میں رات بنا رہا تھا لیکن

تاریک نہیں بنا رہا تھا

Thursday, 1 April 2021

چمکتے سورج اچھالتے تھے کہاں گئے وہ

 چمکتے سُورج اُچھالتے تھے کہاں گئے وہ

جو شامیں صبحوں میں ڈھالتے تھے کہاں گئے وہ

بدن میں لرزش کہ دن ڈھلا جا رہا ہے پھر سے

جو دن سے گردش نکالتے تھے کہاں گئے وہ

ابھی تو ہاتھوں میں حِدتیں ان کے ہاتھ کی ہیں

ابھی تو ہم کو سنبھالتے تھے کہاں گئے وہ

Saturday, 14 November 2020

سانس کے بخیوں کو سینا ہی نہیں آتا تھا

 سانس کے بخیوں کو سینا ہی نہیں آتا تھا

ہمیں جینے کا قرینہ ہی نہیں آتا تھا

چاہ تو تھی اسے دے دوں کوئی گمنام سی سمت

میرے قابو میں سفینہ ہی نہیں آتا تھا

پاؤں بے ساختہ اٹھتے رہے تاریکی میں

آگے آنکھوں کے وہ زینہ ہی نہیں آتا تھا