گمشدہ آواز کا ماتم
الماری میں قید آواز
چوراہے تک پہنچنا چاہتی ہے
اور چوراہے سے اٹھنے والا گریہ
واپس پہاڑی بستیوں میں
دل اس درد کی موج تک
گمشدہ آواز کا ماتم
الماری میں قید آواز
چوراہے تک پہنچنا چاہتی ہے
اور چوراہے سے اٹھنے والا گریہ
واپس پہاڑی بستیوں میں
دل اس درد کی موج تک
یہ جو منظر ہے بآسانی بدل سکتا ہے
تیرا آنا مِری حیرانی بدل سکتا ہے
ہوتی آئی ہے صحائف میں یہاں تبدیلی
دیکھتے دیکھتے یہ پانی بدل سکتا ہے
میں پریشاں ہوں مگر تجھ سے زیادہ تو نہیں
مجھ سے تُو اپنی پریشانی بدل سکتا ہے
مرگِ مسلسل کی راتوں میں
دُھن چھِڑتی ہے
سنسان دریچوں کے باہر
جہاں کوئی چراغ نہیں جلتا
جہاں کوئی امید نہیں جگتی
ان راتوں میں
بکھرے ہوئے لمحات کہیں جمع تو ہو لیں
پھر ہم بھی کہیں شعر، لبِ سوختہ کھولیں
اک خواب ہے اور اتنا المناک و حزیں
جی چاہتا ہے آنکھ میں اک خار چبھو لیں
افلاس کی یہ برف پگھلنے کی نہیں ہے
جو چپ ہیں وہ ٹھٹھرتے ہوئے افراد بھی بولیں
ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا
پر اور کہیں بنا رہا تھا
اس بُت نے جہاں بنایا تھا بُت
میں برسوں وہیں بنا رہا تھا
میں رات بنا رہا تھا لیکن
تاریک نہیں بنا رہا تھا
چمکتے سُورج اُچھالتے تھے کہاں گئے وہ
جو شامیں صبحوں میں ڈھالتے تھے کہاں گئے وہ
بدن میں لرزش کہ دن ڈھلا جا رہا ہے پھر سے
جو دن سے گردش نکالتے تھے کہاں گئے وہ
ابھی تو ہاتھوں میں حِدتیں ان کے ہاتھ کی ہیں
ابھی تو ہم کو سنبھالتے تھے کہاں گئے وہ
سانس کے بخیوں کو سینا ہی نہیں آتا تھا
ہمیں جینے کا قرینہ ہی نہیں آتا تھا
چاہ تو تھی اسے دے دوں کوئی گمنام سی سمت
میرے قابو میں سفینہ ہی نہیں آتا تھا
پاؤں بے ساختہ اٹھتے رہے تاریکی میں
آگے آنکھوں کے وہ زینہ ہی نہیں آتا تھا