Showing posts with label حنا طارق. Show all posts
Showing posts with label حنا طارق. Show all posts

Monday, 28 February 2022

بیاں کیا کیجئے سوز دروں کو داستانوں میں

 بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں

نکل کے تیر کب آتے ہیں واپس پھر کمانوں میں

ہماری سوچ کے بادل ہیں اڑتے آسمانوں میں

کرے گی یاد یہ دنیا ہمیں آتے زمانوں میں

سبھی مل کر بچھڑ جائیں اگر گمنام ہو جائیں

مکیں پھر کس لئے بستے ہیں ان اونچے مکانوں میں

Thursday, 20 January 2022

جو معترض کھڑے ہیں مری اس اڑان پر

 جو معترض کھڑے ہیں مِری اس اڑان پر

شکوہ نہ ان سے ہے نہ شکایت زبان پر

وہ ہم سے پھر ملے گا کسی آسمان پر

ہم ہیں کہ جی رہے ہیں فقط اس گمان پر

پہنچے گا تیر میرا یہ اپنے نشان پر

اتنا یقین مجھ کو ہے اپنی کمان پر

Thursday, 6 January 2022

تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے

 تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے

میرے دربار کا جو در ہے کھلا رہتا ہے

ہر قدم ساتھ رہا کرتی ہیں یادیں تیری

دھیان تیرا ہی در دل پہ دھرا رہتا ہے

وسوسے یوں تو ڈراتے ہیں اندھیروں سے مگر

میری راہوں میں بھی اک دیپ جلا رہتا ہے

Tuesday, 4 January 2022

تسخیر ہے کرنا اسے اب دست ہنر سے

 تسخیر ہے کرنا اسے اب دستِ ہنر سے

لکھ کر کبھی ڈرنا نہیں اندھیر نگر سے

یہ شہر کہ وہ شہر جو روشن تھا ہمیشہ

یاں خوف کوئی تھا نہ بشر ہی کو بشر سے

بس موسمِ ہجراں ہی یہاں آ کے رکا ہے

وابستہ مگر وصل کی یادیں ہیں شجر سے

Monday, 3 January 2022

کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں

 کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں

چلو آؤ، کوئی رستہ نیا ایجاد کرتے ہیں

سمندر ہو کہ صحرا ہو گل و گلزار ہو چاہے

یہ ہم ہی لوگ ہیں جو ہر نگر آباد کرتے ہیں

یہی خواہش تمہاری ہے کہ تم ہم سے بچھڑ جاؤ

تو پھر جاؤ ابھی سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں