بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں
نکل کے تیر کب آتے ہیں واپس پھر کمانوں میں
ہماری سوچ کے بادل ہیں اڑتے آسمانوں میں
کرے گی یاد یہ دنیا ہمیں آتے زمانوں میں
سبھی مل کر بچھڑ جائیں اگر گمنام ہو جائیں
مکیں پھر کس لئے بستے ہیں ان اونچے مکانوں میں
بیاں کیا کیجیے سوز دروں کو داستانوں میں
نکل کے تیر کب آتے ہیں واپس پھر کمانوں میں
ہماری سوچ کے بادل ہیں اڑتے آسمانوں میں
کرے گی یاد یہ دنیا ہمیں آتے زمانوں میں
سبھی مل کر بچھڑ جائیں اگر گمنام ہو جائیں
مکیں پھر کس لئے بستے ہیں ان اونچے مکانوں میں
جو معترض کھڑے ہیں مِری اس اڑان پر
شکوہ نہ ان سے ہے نہ شکایت زبان پر
وہ ہم سے پھر ملے گا کسی آسمان پر
ہم ہیں کہ جی رہے ہیں فقط اس گمان پر
پہنچے گا تیر میرا یہ اپنے نشان پر
اتنا یقین مجھ کو ہے اپنی کمان پر
تیرے گلزار کی خوشبو سے سجا رہتا ہے
میرے دربار کا جو در ہے کھلا رہتا ہے
ہر قدم ساتھ رہا کرتی ہیں یادیں تیری
دھیان تیرا ہی در دل پہ دھرا رہتا ہے
وسوسے یوں تو ڈراتے ہیں اندھیروں سے مگر
میری راہوں میں بھی اک دیپ جلا رہتا ہے
تسخیر ہے کرنا اسے اب دستِ ہنر سے
لکھ کر کبھی ڈرنا نہیں اندھیر نگر سے
یہ شہر کہ وہ شہر جو روشن تھا ہمیشہ
یاں خوف کوئی تھا نہ بشر ہی کو بشر سے
بس موسمِ ہجراں ہی یہاں آ کے رکا ہے
وابستہ مگر وصل کی یادیں ہیں شجر سے
کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں
چلو آؤ، کوئی رستہ نیا ایجاد کرتے ہیں
سمندر ہو کہ صحرا ہو گل و گلزار ہو چاہے
یہ ہم ہی لوگ ہیں جو ہر نگر آباد کرتے ہیں
یہی خواہش تمہاری ہے کہ تم ہم سے بچھڑ جاؤ
تو پھر جاؤ ابھی سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں