پیار کا اک پل سکونِ زندگی دے جائے گا
ختم جو ہونے نہ پائے وہ خوشی دے جائے گا
وہ خلوص و مہر کا پیکر بنامِ دوستاں
دشمنوں کو بھی شعور دوستی دے جائے گا
حسنِ فطرت جلوہ گر ہو کر یقیناً اک دن
رنگ کلیوں کو گلوں کو دلکشی دے جائے گا
پیار کا اک پل سکونِ زندگی دے جائے گا
ختم جو ہونے نہ پائے وہ خوشی دے جائے گا
وہ خلوص و مہر کا پیکر بنامِ دوستاں
دشمنوں کو بھی شعور دوستی دے جائے گا
حسنِ فطرت جلوہ گر ہو کر یقیناً اک دن
رنگ کلیوں کو گلوں کو دلکشی دے جائے گا
وہ کوئی حسن ہے جس حسن کا چرچا نہ ہوا
اس کا کیا عشق ہے جو عشق میں رُسوا نہ ہوا
تیرا آنا جو مِرے پاس مسیحا نہ ہوا
تھا جو بیمار کسی سے مگر اچھا نہ ہوا
یوں تو مشتاق رہے کتنا ہی اس کوچے کے
پر گزر میرے سوا اور کسی کا نہ ہوا
لب پر ان کا نام نہیں ہے
چین نہیں آرام نہیں ہے
لاکھ بچاؤ مجھ سے دامن
میری محبت خام نہیں ہے
دل ہے پریشاں ان کی خاطر
پل بھر کو آرام نہیں ہے
ستم ہے اپنا کسی نے بنا کے لُوٹ لیا
مِری نظر سے نظر کو ملا کے لوٹ لیا
حریم ناز کے پردے میں جو نہاں تھا کبھی
اسی نے شوخ ادائیں دکھا کے لوٹ لیا
رہا نہ ہوش مجھے اس کے بعد پھر کچھ بھی
کی جب کسی نے مقابل میں آ کے لوٹ لیا
خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور
تمہاری بات اور ہے ہماری بات اور
کوئی اگر جفا کرے نہیں ہے کچھ گِلہ مجھے
کسی کی بات اور ہے تمہاری بات اور
حضور سن بھی لیجئے چھوڑ کر کے جائیے
ذرا سی بات اور ہے ذرا سی بات اور ہے
میرے لب پر اگر کبھی آئی
رقص کرتی ہوئی ہنسی آئی
ان کے مجھ پر ستم بڑھے جب سے
دردِ دل میں بہت کمی آئی
ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو
روتے روتے کبھی ہنسی آئی