Showing posts with label انور تاباں. Show all posts
Showing posts with label انور تاباں. Show all posts

Monday, 31 July 2023

پیار کا اک پل سکون زندگی دے جائے گا

 پیار کا اک پل سکونِ زندگی دے جائے گا

ختم جو ہونے نہ پائے وہ خوشی دے جائے گا

وہ خلوص و مہر کا پیکر بنامِ دوستاں

دشمنوں کو بھی شعور دوستی دے جائے گا

حسنِ فطرت جلوہ گر ہو کر یقیناً اک دن

رنگ کلیوں کو گلوں کو دلکشی دے جائے گا

Friday, 25 June 2021

وہ کوئی حسن ہے جس حسن کا چرچا نہ ہوا

 وہ کوئی حسن ہے جس حسن کا چرچا نہ ہوا

اس کا کیا عشق ہے جو عشق میں رُسوا نہ ہوا

تیرا آنا جو مِرے پاس مسیحا نہ ہوا

تھا جو بیمار کسی سے مگر اچھا نہ ہوا

یوں تو مشتاق رہے کتنا ہی اس کوچے کے

پر گزر میرے سوا اور کسی کا نہ ہوا

Wednesday, 23 June 2021

لب پر ان کا نام نہیں ہے چین نہیں آرام نہیں ہے

لب پر ان کا نام نہیں ہے

چین نہیں آرام نہیں ہے

لاکھ بچاؤ مجھ سے دامن

میری محبت خام نہیں ہے

دل ہے پریشاں ان کی خاطر

پل بھر کو آرام نہیں ہے

Tuesday, 22 June 2021

ستم ہے اپنا کسی نے بنا کے لوٹ لیا

 ستم ہے اپنا کسی نے بنا کے لُوٹ لیا

مِری نظر سے نظر کو ملا کے لوٹ لیا

حریم ناز کے پردے میں جو نہاں تھا کبھی

اسی نے شوخ ادائیں دکھا کے لوٹ لیا

رہا نہ ہوش مجھے اس کے بعد پھر کچھ بھی

کی جب کسی نے مقابل میں آ کے لوٹ لیا

Saturday, 15 May 2021

خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور

 خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور

تمہاری بات اور ہے ہماری بات اور

کوئی اگر جفا کرے نہیں ہے کچھ گِلہ مجھے

کسی کی بات اور ہے تمہاری بات اور

حضور سن بھی لیجئے چھوڑ کر کے جائیے

ذرا سی بات اور ہے ذرا سی بات اور ہے

Saturday, 8 May 2021

میرے لب پر اگر کبھی آئی

 میرے لب پر اگر کبھی آئی

رقص کرتی ہوئی ہنسی آئی

ان کے مجھ پر ستم بڑھے جب سے

دردِ دل میں بہت کمی آئی

ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو

روتے روتے کبھی ہنسی آئی