خوشی کی بات اور ہے غموں کی بات اور
تمہاری بات اور ہے ہماری بات اور
کوئی اگر جفا کرے نہیں ہے کچھ گِلہ مجھے
کسی کی بات اور ہے تمہاری بات اور
حضور سن بھی لیجئے چھوڑ کر کے جائیے
ذرا سی بات اور ہے ذرا سی بات اور ہے
زباں سے تاباں مت کہو نظر سے التجا کرو
زباں کی بات اور ہے نظر کی بات اور
انور تاباں
No comments:
Post a Comment