Showing posts with label سعید الظفر. Show all posts
Showing posts with label سعید الظفر. Show all posts

Thursday, 28 April 2022

زیر زمیں کھلے کہ تہِ آسماں کھلے

 زیرِ زمیں کھلے کہ تہِ آسماں کھلے

میرے خدا کہیں تو مری داستاں کھلے

کھلتا نہیں ہے بیٹھے بٹھائے کوئی یہاں

ہم نے زمین اوڑھ لی تب آسماں کھلے

مدت ہوئی ہے دونوں کو بچھڑے ہوئے مگر

اب تک نہ ہم یہاں نہ وہ اب تک وہاں کھلے

Saturday, 4 February 2017

زندگی اور طرح اب تو گزاری جائے

زندگی اور طرح اب تو گزاری جائے
عشق کی جیت کے بازی کوئی ہاری جائے
آج پھر ہے لب و رخسار پہ گل رنگ بہار
آئیے! آپ کی تصویر اتاری جائے
اب کوئی اس سے تعلق، نہ مراسم، نہ قرار
اب اگر جان یہ جاتی ہے ہماری جائے

Thursday, 29 December 2016

درد بے حد سا کوئی ڈھنگ کا آزار تو ہو

درد بے حد سا کوئی ڈھنگ کا آزار تو ہو
زیست کرنے کے لیے سر پہ اک پندار تو ہو
تجھ پہ بھی شہر کے کھل جائیں گے اسرار و رموز
تُو بھی میری طرح رسوا سرِ بازار تو ہو
ہم نہیں کوچۂ جاناں میں کوئی سہل پسند
راہ لینے کے لیے سامنے کوئی دیوار تو ہو

Sunday, 4 December 2016

دیکھتے ہیں جو اگر ہم وہ سنانے لگ جائیں

دیکھتے ہیں جو اگر ہم وہ سنانے لگ جائیں
اچھے اچھوں کے میاں ہوش ٹھکانے لگ جائیں
کتنے خوش فہم ہیں کچھ لوگ تِری محفل میں
ہو اجازت تو ہم آئینہ دکھانے لگ جائیں
ایک ہی پَل میں کبھی عمر گزر جاتی ہے
اور کسی پَل کو بِتانے میں زمانے لگ جائیں

لیے پھرتے ہیں دل میں غم کسی کا

لیے پھرتے ہیں دل میں غم کسی کا
عجب سا رنگ ہے اب زندگی کا
یہ کن حیرانیوں میں گھِر گیا ہوں میں
ہر اک چہرے پہ ہے چہرہ کسی کا
تعلق کو نہ اتنا آزماؤ
بھرم اب کھل نہ جائے دوستی کا

تہمتیں اٹھا لیں کیا ہم شکست کھا لیں کیا

تہمتیں اٹھا لیں کیا 
ہم شکست کھا لیں کیا 
مان لیں زمانے کی
اور سر جھکا لیں کیا 
کھاۓ ہیں بہت دھوکے
پھر فریب کھا لیں کیا 

Sunday, 23 August 2015

کسی گلی کسی کوچے میں گھر دیئے جائیں

کسی گلی کسی کوچے میں گھر دیئے جائیں
وگرنہ شہر بدر لوگ کر دیئے جائیں
امیرِ شہر کی سنتے ہیں اب یہ خواہش ہے
ہمارے پاؤں ہمیں باندھ کر دیئے جائیں
قدم قدم پہ کھڑی ہو رہی ہوں دیواریں
تو گام گام پہ لازم ہے سر دیئے جائیں

ہم دلگرفتہ ایک زمانے سے تو رہے

ہم دل گرفتہ ایک زمانے سے تو رہے
یہ بات ہر کسی کو بتانے سے تو رہے
بدلے نہ ہوں گے آپ، یہ ہم کیسے مان لیں
آخر جنابِ من بھی زمانے سے تو رہے
اب تم بھی ناصحوں کی طرح بولنے لگے
اب ہم تمہاری بات میں آنے سے تو رہے

ملا اگر نہ کوئی ڈھنگ کا بہانا تو

ملا اگر نہ کوئی ڈھنگ کا بہانہ تو
تمہیں بھی پڑ گیا وعدہ نبھانا تو
تمہیں گماں ہے کہ زخموں کو وقت بھر دے گا
مگر جو ختم ہوا یوں نہ یہ فسانہ تو
جو راز دل میں چھپائے ہوئے ہو مدت سے
خدا نہ کردہ، کبھی پڑ گیا بتانا تو

Wednesday, 26 November 2014

کسی کے ساتھ سفر میں نہ اپنے گھر میں ہیں

کسی کے ساتھ سفر میں نہ اپنے گھر میں ہیں
ہم آج آپ کے اخبار کی خبر میں ہیں
نہ اہتمامِ وفا، نہ سرفروشئ عشق
یہ کس قماش کے سودے ہمارے سر میں ہیں
یہ زندگی سے کہو، تلخ گفتگو نہ کرے
ہم اب بھی ان کی محبت بھری نظر میں ہیں

سایہ کہیں کسی کو میسر نہیں ہے کیا

سایہ کہیں کسی کو میسر نہیں ہے کیا
سر پر جو آسمان تھا، سر پر نہیں ہے کیا
اک دوسرے سے اپنا پتا پوچھتے ہیں لوگ
اب کوئی اپنے آپ کے اندر نہیں ہے کیا
ہم زندگی تِرے لیے جان سے گزر گئے
اب بھی تِرا حساب برابر نہیں ہے کیا

لوگ تو شام ڈھلے لوٹ کے گھر جاتے ہیں

لوگ تو شام ڈھلے لوٹ کے گھر جاتے ہیں
راستے اپنے، خدا جانے کدھر جاتے ہیں
ہم کہاں جائیں لیے وحشتِ جاں کا آزار
تند دریا تو سمندر میں اتر جاتے ہیں
اب بھلا پوچھیں تو کیا پوچھیں کسی سے تعبیر
خواب تو صبح سے پہلے ہی بکھر جا تے ہیں