زیرِ زمیں کھلے کہ تہِ آسماں کھلے
میرے خدا کہیں تو مری داستاں کھلے
کھلتا نہیں ہے بیٹھے بٹھائے کوئی یہاں
ہم نے زمین اوڑھ لی تب آسماں کھلے
مدت ہوئی ہے دونوں کو بچھڑے ہوئے مگر
اب تک نہ ہم یہاں نہ وہ اب تک وہاں کھلے
زیرِ زمیں کھلے کہ تہِ آسماں کھلے
میرے خدا کہیں تو مری داستاں کھلے
کھلتا نہیں ہے بیٹھے بٹھائے کوئی یہاں
ہم نے زمین اوڑھ لی تب آسماں کھلے
مدت ہوئی ہے دونوں کو بچھڑے ہوئے مگر
اب تک نہ ہم یہاں نہ وہ اب تک وہاں کھلے