عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
نازاں ہے جس پہ حُسن، وہ حُسنِ رسولؐ ہے
یہ کہکشاں تو آپؐ کے قدموں کی دُھول ہے
اے رہروانِ شوق یہاں سر کے بل چلو
طیبہ کے راستے کا تو کانٹا بھی پھول ہے
ہر اک قدم میں اس پہ ضروری ہے احتیاط
عشقِ بُتاں نہیں ہے یہ عشقِ رسولﷺ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
نازاں ہے جس پہ حُسن، وہ حُسنِ رسولؐ ہے
یہ کہکشاں تو آپؐ کے قدموں کی دُھول ہے
اے رہروانِ شوق یہاں سر کے بل چلو
طیبہ کے راستے کا تو کانٹا بھی پھول ہے
ہر اک قدم میں اس پہ ضروری ہے احتیاط
عشقِ بُتاں نہیں ہے یہ عشقِ رسولﷺ ہے
دعائیہ کلام
اس ملک پہ اللہ کا کرم ہو کے رہے گا
یہ دَیر کسی روز حرم ہو کے رہے گا
پہرے تو بٹھا دو گے مگر میرے قلم سے
اسلام کا پیغام رقم ہو کے رہے گا
زندانیو! گھبراؤ نہ اِس جور و جفا سے
سر جبر کا اکڑا ہوا خم ہو کے رہے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منقبت مولا علیؑ
دہر جُز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بمِ ہستی و عدم
لغو ہے آئینۂ فرقِ جنون و تمکیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے
احرام کی مانند مِرا دامنِ تر ہے
نظارۂ فردوس کی یا رب نہیں فرصت
اس وقت مدینے کی فضا پیشِ نظر ہے
اس شہر کے ذرے ہیں مہ و مہر سے بڑھ کر
جس شہر میں اللہ کے محبوبﷺ کا گھر ہے
مکڑی کے جالوں میں کب سے قید ہیں روشندان مِرے
ہائے کیا سوچیں گے گھر کو دیکھ کے کل مہمان مرے
اب کے برس تو دل کی زمیں پر آگ فلک سے برسی ہے
فکر کی گندم کے دانوں سے خالی ہیں کھلیان مرے
میری زباں پر مصلحتوں کے پہرے ہیں تو پھر کیا ہے
حق کے علمبردار ہیں اب بھی مزدور و دہقان مرے
ہم دل کی تباہی کا یہ ساماں نہ کریں گے
اس گھر میں کسی اور کو مہماں نہ کریں گے
گھبرا کے کبھی چاک گریباں نہ کریں گے
بدنام تجھے فصلِ بہاراں نہ کریں گے
مشعل کو چراغِ تہِ داماں نہ کریں گے
جو داغ ہیں سینے میں وہ پنہاں نہ کریں گے
تیری زلفیں، تِرے رخسار، ترے لب میرے
جتنے پہلو ہیں تِرے حسن کے وہ سب میرے
اس سے اب ترکِ محبت کا گِلہ کیا معنی؟
مجھ کو تسلیم کہ اطوار تھے بے ڈھب میرے
پھر وہی چاند سرِ شہر چڑھے تو اے کاش
اس سے روشن ہوں در و بام بس اک شب میرے
تم سے اندازِ شکایت جدا رکھا ہے
ہم نے انصاف قیامت پہ اٹھا رکھا ہے
لاکھ طوفان آئے بگولے ناچے
تیری یاد کا دیا پھر بھی جلا رکھا ہے
یہ بھرا شہر ہے میرے لیے صحرا کی طرح
اب تیرے بعد تیرے شہر میں کیا رکھا ہے
خدا نصیب کرے جس کو صحبتیں میری
نہ بھول پائے کبھی وہ حکایتیں میری
کہاں گئے مِری مصروف ساعتوں کے رفیق
صدائیں دیتی ہیں اب ان کو فرصتیں میری
تمام شہر گریزاں ہے آج کل جیسے
کسی کے نام نہ لگ جائیں تہمتیں میری
تیرے قتل کے بعد
راز دنیا پر کھلا ہے یہ تِرے قتل کے بعد
لوگ مر کے بھی رہا کرتے ہیں زندہ کیسے
کون کتنا ہے تِرے قتل کی سازش میں شریک
اک نہ اک روز نقاب اٹھے گا ہر چہرے سے
شہر تو محوِ مناجات و دعا تھا، پوچھو
حاکمِ شہر نے وہ رات گزاری تھی کیسے؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام مرثیہ
محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں
آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں
وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندر ہیں
جو سرور عالم کا میلاد مناتے ہیں
جن کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی
اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے
کانٹے کی وہ اک نوک جو طیبہ میں پلی ہے
جو انؐ کی گلی ہے وہی دراصل ہے جنت
دراصل جو جنت ہے وہی ان کی گلی ہے
اے صل علیٰ صاحبِ معراج کی سیرت
جو بات ہے قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہے