Showing posts with label کوثر نیازی. Show all posts
Showing posts with label کوثر نیازی. Show all posts

Monday, 1 May 2023

نازاں ہے جس پہ حسن وہ حسن رسول ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


نازاں ہے جس پہ حُسن، وہ حُسنِ رسولؐ ہے 

یہ کہکشاں تو آپؐ کے قدموں کی دُھول ہے 

اے رہروانِ شوق یہاں سر کے بل چلو 

طیبہ کے راستے کا تو کانٹا بھی پھول ہے 

ہر اک قدم میں اس پہ ضروری ہے احتیاط 

عشقِ بُتاں نہیں ہے یہ عشقِ رسولﷺ ہے 

Thursday, 13 April 2023

اس ملک پہ اللہ کا کرم ہو کے رہے گا

دعائیہ کلام


اس ملک پہ اللہ کا کرم ہو کے رہے گا

یہ دَیر کسی روز حرم ہو کے رہے گا

پہرے تو بٹھا دو گے مگر میرے قلم سے

اسلام کا پیغام رقم ہو کے رہے گا

زندانیو! گھبراؤ نہ اِس جور و جفا سے

سر جبر کا اکڑا ہوا خم ہو کے رہے گا

Wednesday, 12 April 2023

دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

منقبت مولا علیؑ


دہر جُز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بمِ ہستی و عدم

لغو ہے آئینۂ فرقِ جنون و تمکیں

Thursday, 7 October 2021

خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے

احرام کی مانند مِرا دامنِ تر ہے

نظارۂ فردوس کی یا رب نہیں فرصت

اس وقت مدینے کی فضا پیشِ نظر ہے

اس شہر کے ذرے ہیں مہ و مہر سے بڑھ کر

جس شہر میں اللہ کے محبوبﷺ کا گھر ہے

Monday, 10 May 2021

مکڑی کے جالوں میں کب سے قید ہیں روشندان مرے

 مکڑی کے جالوں میں کب سے قید ہیں روشندان مِرے

ہائے کیا سوچیں گے گھر کو دیکھ کے کل مہمان مرے

اب کے برس تو دل کی زمیں پر آگ فلک سے برسی ہے

فکر کی گندم کے دانوں سے خالی ہیں کھلیان مرے

میری زباں پر مصلحتوں کے پہرے ہیں تو پھر کیا ہے

حق کے علمبردار ہیں اب بھی مزدور و دہقان مرے

Monday, 3 May 2021

ہم دل کی تباہی کا یہ ساماں نہ کریں گے

 ہم دل کی تباہی کا یہ ساماں نہ کریں گے

اس گھر میں کسی اور کو مہماں نہ کریں گے

گھبرا کے کبھی چاک گریباں نہ کریں گے

بدنام تجھے فصلِ بہاراں نہ کریں گے

مشعل کو چراغِ تہِ داماں نہ کریں گے

جو داغ ہیں سینے میں وہ پنہاں نہ کریں گے

Saturday, 26 September 2020

تیری زلفیں ترے رخسار ترے لب میرے

 تیری زلفیں، تِرے رخسار، ترے لب میرے

جتنے پہلو ہیں تِرے حسن کے وہ سب میرے

اس سے اب ترکِ محبت کا گِلہ کیا معنی؟

مجھ کو تسلیم کہ اطوار تھے بے ڈھب میرے

پھر وہی چاند سرِ شہر چڑھے تو اے کاش

اس سے روشن ہوں در و بام بس اک شب میرے

تم سے انداز شکایت جدا رکھا ہے

 تم سے اندازِ شکایت جدا رکھا ہے

ہم نے انصاف قیامت پہ اٹھا رکھا ہے

لاکھ طوفان آئے بگولے ناچے

تیری یاد کا دیا پھر بھی جلا رکھا ہے

یہ بھرا شہر ہے میرے لیے صحرا کی طرح

اب تیرے بعد تیرے شہر میں کیا رکھا ہے

Friday, 25 September 2020

خدا نصیب کرے جس کو صحبتیں میری

 خدا نصیب کرے جس کو صحبتیں میری 

نہ بھول پائے کبھی وہ حکایتیں میری 

کہاں گئے مِری مصروف ساعتوں کے رفیق 

صدائیں دیتی ہیں اب ان کو فرصتیں میری 

تمام شہر گریزاں ہے آج کل جیسے 

کسی کے نام نہ لگ جائیں تہمتیں میری 

راز دنیا پر کھلا ہے یہ ترے قتل کے بعد

 تیرے قتل کے بعد


راز دنیا پر کھلا ہے یہ تِرے قتل کے بعد

لوگ مر کے بھی رہا کرتے ہیں زندہ کیسے

کون کتنا ہے تِرے قتل کی سازش میں شریک

اک نہ اک روز نقاب اٹھے گا ہر چہرے سے

شہر تو محوِ مناجات و دعا تھا، پوچھو

حاکمِ شہر نے وہ رات گزاری تھی کیسے؟

Wednesday, 23 September 2020

محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام مرثیہ


محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں

آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں

وہ لوگ خدا شاہد قسمت کے سکندر ہیں

جو سرور عالم کا میلاد مناتے ہیں

جن کا بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں والی

اس کو بھی میرے آقا سینے سے لگاتے ہیں

میرے لیے ہر گلشن رنگیں سے بھلی ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


 میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے

کانٹے کی وہ اک نوک جو طیبہ میں پلی ہے

جو انؐ کی گلی ہے وہی دراصل ہے جنت

دراصل جو جنت ہے وہی ان کی گلی ہے

اے صل علیٰ صاحبِ معراج کی سیرت

جو بات ہے قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہے

Friday, 4 September 2020

دل و دماغ میں مہر و وفا کے افسانے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام مرثیہ

دل و دماغ میں مہر و وفا کے افسانے
تصورات میں روشن فضائے بدر و حُنین
خوشا یہ اوجِ مقدر، زہے یہ عز و شرف
مِری زباں پہ جاری ہے آج ذکرِ حسینؑ

نہ فکر سود و زیاں کی، نہ ذکرِ تیغ و تبر
حسین، راہِ خدا میں تِری یہ بے تابی

Saturday, 10 December 2016

اس نے ہر مشق ستم ہم پہ روا رکھی ہے

اس نے ہر مشقِ ستم ہم پہ روا رکھی ہے
ہم نے آواز بھی سینے میں دبا رکھی ہے
قتل گاہوں میں لہو اپنا نچھاور کر کے
شمعِ انصاف کی لو ہم نے بڑھا رکھی ہے
کہیں بکھری ہیں کتابیں، کہیں میلے کپڑے
گھر کی حالت ہی عجب ہم نے بنا رکھی ہے

بے سبب آج آنکھ پر نم ہے

بے سبب آج آنکھ پُر نم ہے 
جانے کس بات کا مجھے غم ہے 
پھر کوئی اہتمامِ ماتم ہے 
میرے سینے میں درد کم کم ہے
یہ تعلق ہی مجھ کو کیا کم ہے
آپ کے آستاں پہ سر خم ہے

Friday, 13 November 2015

خیال ترک الفت ہم نشینو آ ہی جاتا ہے

خیالِ ترکِ الفت ہم نشینو آ ہی جاتا ہے
وفورِ یاس ہو تو آدمی گھبرا ہی جاتا ہے
ہمیشہ سطحِ دریا ایک حالت پر نہیں رہتی
سفینہ تنگ موجوں سے کبھی ٹکرا ہی جاتا ہے
تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
ابھی اپنے کیے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے

ملا برہمن نہ تھے دیر و حرم نہ تھے

مُلا برہمن نہ تھے، دیر و حرم نہ تھے
اے دل کب انکی راہ میں یہ پیچ و خم نہ تھے
شاید انہیں کبھی نہ کبھی یاد آ سکے
ان سے تعلقات ہمارے بھی کم نہ تھے
الزام کس لیے تجھے اے چشمِ دوست دیں
شایانِ التفات ہی در اصل ہم نہ تھے

Sunday, 4 October 2015

گرتے ہوئے جب میں نے ترا نام لیا ہے

گِرتے ہوئے جب میں نے تِرا نام لیا ہے
منزل نے وہیں بڑھ کے مجھے تھام لیا ہے
مے خوار تو ہے محتسبِ شہر زیادہ
رِندوں نے یونہی مفت میں الزام لیا ہے
وہ مِل نہ سکے، یاد تو ہے ان کی سلامت
اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

جب زیست کے مشکل لمحوں میں اپنے بھی کنارا کرتے ہیں

جب زیست کے مشکل لمحوں میں اپنے بھی کنارا کرتے ہیں
اس وقت بھی ہم اے اہلِ جہاں! ہنس ہنس کے گزرا کرتے ہیں
صیاد نے تیرے اسیروں کو آخر یہ کہہ کر چھوڑ دیا
یہ لوگ قفس میں رہ کر بھی گلشن کا نظارا کرتے ہیں
جذبات میں آ کر مرنا تو مشکل سی کوئی مشکل ہی نہیں
اے جانِ جہاں! ہم تیرے لیے جینا بھی گوارا کرتے ہیں

چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی

چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی
پھر نہ وہ تُو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی
کرۂ ارض نے دیکھا ہی نہیں وہ خورشید
جس کی گردش میں شب و روز مِری ذات رہی
اب ہر شخص اجالوں میں کھڑا ہے عریاں
کون سی شکل پسِ پردۂ ظلمات رہی