Thursday, 7 October 2021

خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے

احرام کی مانند مِرا دامنِ تر ہے

نظارۂ فردوس کی یا رب نہیں فرصت

اس وقت مدینے کی فضا پیشِ نظر ہے

اس شہر کے ذرے ہیں مہ و مہر سے بڑھ کر

جس شہر میں اللہ کے محبوبﷺ کا گھر ہے

یہ راہ کے کنکر ہیں کہ بکھرے ہوئے تارے

یہ کہکشاں ہے کہ تِری گرد سفر ہے

اس صاحبِ معراج کے در کا ہوں بھکاری

قرآن میں جس کے لیے ماذاغ البصرہے

اک مہر لقا، ماہ ادا کا ہے یہ اعجاز

ہر اشک مِری آنکھ کا تابندہ گہر ہے

میں گنبد خضریٰ کی طرف دیکھ رہا ہوں

کوثر مِرے نزدیک یہ معراجِ نظر ہے


کوثر نیازی

No comments:

Post a Comment