Showing posts with label محبوب زاہد. Show all posts
Showing posts with label محبوب زاہد. Show all posts

Sunday, 11 February 2024

تہمت کسی کی کیوں مرے دامن سے جڑی ہے

 تہمت کسی کی کیوں مِرے دامن سے جُڑی ہے

اک گفتگو ہے جو مِری الجھن سے جڑی ہے

اک تیرگی ہے رات کے دامن میں کہیں گُم

اک روشنی ہے جو کسی روزن سے جڑی ہے

جس کو بڑے ہی شوق سے ہر اک نے سُنا ہے 

وہ گُفتگو بھی آپ کے آنگن سے جڑی ہے

Thursday, 8 December 2022

جو میں نے شعر میں برتا ہے استعارہ سمجھ

جو میں نے شعر میں برتا ہے استعارہ سمجھ

مِری نگاہ کا مرکز ہے جو اشارہ، سمجھ

جو ایک نانِ شبینہ بھی روز مل جائے

خدا کا شُکر بجا لا، اسے گزارہ سمجھ

کسی کی یاد کی خُوشبو سُلگ بھی سکتی ہے

جو اُڑتا پھرتا ہے جگنو اسے شرارہ سمجھ

Sunday, 27 February 2022

جس سے ہر پل ہر سو میری بات رہی

 جس سے ہر پل ہر سو میری بات رہی

اس کی خوشبو ہر دم میرے ساتھ رہی

دل کا موسم جیٹھ مہینے جیسا تھا

آنکھوں میں کیوں ساون سی برسات رہی

دن بھر ایک مشقت میں نے کاٹی تھی

پھر بھی جانے کیوں بے چین سی رات رہی

Sunday, 30 January 2022

مجھ سے بھی چاہتوں کا اعادہ نہیں ہوا

 مجھ سے بھی چاہتوں کا اعادہ نہیں ہوا

اس کو بھی رنج اتنا زیادہ نہیں ہوا

جب بھی پلٹ کے دیکھا ہے لکھا ہے ایک نام

دل کا ورق تو کوئی بھی سادہ نہیں ہوا

اکثر خیالِ یار سے مدہوش ہو لیا

جب اہتمامِ ساغر و بادہ نہیں ہوا

Tuesday, 28 December 2021

وہیں پہ رکھ دیا میں نے چراغ جلتا ہوا

 وہیں پہ رکھ دیا میں نے چراغ جلتا ہوا

جہاں بھی دیکھ لیا، آفتاب ڈھلتا ہوا

ہزار جال مِری راہ میں بچھائے گئے

مگر میں چلتا رہا، دیکھ کر، سنبھلتا ہوا

منافرت کا جہاں بیج بو گیا تھا تُو

وہاں پر آ کے ذرا دیکھ؛ پیڑ پھلتا ہوا

Friday, 3 September 2021

گریباں چاک سینا آ گیا کیا

 گریباں چاک سینا آ گیا کیا

ستم سہہ کر بھی جینا آ گیا کیا

تِری آنکھوں میں راحت ہے چمک ہے

تصور میں مدینہ آ گیا کیا

بڑے قلاش تھے اب ہو تونگر

اطاعت کا قرینہ آ گیا کیا

Friday, 2 April 2021

یہ بات کہنی پڑے گی بہت ملال کے ساتھ

یہ بات کہنی پڑے گی بہت ملال کے ساتھ

عروج بڑھتا ہے تیرا مِرے زوال کے ساتھ

ہر ایک بات پہ سچ کا گمان ہوتا تھا

وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے کمال کے ساتھ

وہ ہم کلام تھا لیکن عجیب لہجے میں

جواب دے تو رہا تھا مگر سوال کے ساتھ