تہمت کسی کی کیوں مِرے دامن سے جُڑی ہے
اک گفتگو ہے جو مِری الجھن سے جڑی ہے
اک تیرگی ہے رات کے دامن میں کہیں گُم
اک روشنی ہے جو کسی روزن سے جڑی ہے
جس کو بڑے ہی شوق سے ہر اک نے سُنا ہے
وہ گُفتگو بھی آپ کے آنگن سے جڑی ہے
تہمت کسی کی کیوں مِرے دامن سے جُڑی ہے
اک گفتگو ہے جو مِری الجھن سے جڑی ہے
اک تیرگی ہے رات کے دامن میں کہیں گُم
اک روشنی ہے جو کسی روزن سے جڑی ہے
جس کو بڑے ہی شوق سے ہر اک نے سُنا ہے
وہ گُفتگو بھی آپ کے آنگن سے جڑی ہے
جو میں نے شعر میں برتا ہے استعارہ سمجھ
مِری نگاہ کا مرکز ہے جو اشارہ، سمجھ
جو ایک نانِ شبینہ بھی روز مل جائے
خدا کا شُکر بجا لا، اسے گزارہ سمجھ
کسی کی یاد کی خُوشبو سُلگ بھی سکتی ہے
جو اُڑتا پھرتا ہے جگنو اسے شرارہ سمجھ
جس سے ہر پل ہر سو میری بات رہی
اس کی خوشبو ہر دم میرے ساتھ رہی
دل کا موسم جیٹھ مہینے جیسا تھا
آنکھوں میں کیوں ساون سی برسات رہی
دن بھر ایک مشقت میں نے کاٹی تھی
پھر بھی جانے کیوں بے چین سی رات رہی
مجھ سے بھی چاہتوں کا اعادہ نہیں ہوا
اس کو بھی رنج اتنا زیادہ نہیں ہوا
جب بھی پلٹ کے دیکھا ہے لکھا ہے ایک نام
دل کا ورق تو کوئی بھی سادہ نہیں ہوا
اکثر خیالِ یار سے مدہوش ہو لیا
جب اہتمامِ ساغر و بادہ نہیں ہوا
وہیں پہ رکھ دیا میں نے چراغ جلتا ہوا
جہاں بھی دیکھ لیا، آفتاب ڈھلتا ہوا
ہزار جال مِری راہ میں بچھائے گئے
مگر میں چلتا رہا، دیکھ کر، سنبھلتا ہوا
منافرت کا جہاں بیج بو گیا تھا تُو
وہاں پر آ کے ذرا دیکھ؛ پیڑ پھلتا ہوا
گریباں چاک سینا آ گیا کیا
ستم سہہ کر بھی جینا آ گیا کیا
تِری آنکھوں میں راحت ہے چمک ہے
تصور میں مدینہ آ گیا کیا
بڑے قلاش تھے اب ہو تونگر
اطاعت کا قرینہ آ گیا کیا
یہ بات کہنی پڑے گی بہت ملال کے ساتھ
عروج بڑھتا ہے تیرا مِرے زوال کے ساتھ
ہر ایک بات پہ سچ کا گمان ہوتا تھا
وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے کمال کے ساتھ
وہ ہم کلام تھا لیکن عجیب لہجے میں
جواب دے تو رہا تھا مگر سوال کے ساتھ