یہ بات کہنی پڑے گی بہت ملال کے ساتھ
عروج بڑھتا ہے تیرا مِرے زوال کے ساتھ
ہر ایک بات پہ سچ کا گمان ہوتا تھا
وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے کمال کے ساتھ
وہ ہم کلام تھا لیکن عجیب لہجے میں
جواب دے تو رہا تھا مگر سوال کے ساتھ
مِرے خلوص کی قیمت کسی کے پاس نہیں
وہ شہر چھوڑ دیا تھا اسی خیال کے ساتھ
یہ پھُول کون سجاتا ہے تیرے جُوڑے میں
یہ کون کھیل رہا ہے تِرے جمال کے ساتھ
اگرچہ شوق ہے زاہد تمہیں نئے پن کا
نیا ثبوت بھی لاؤ نئی مثال کے ساتھ
محبوب زاہد
No comments:
Post a Comment