Friday, 2 April 2021

دل بھر آئے اور ابر دیدہ میں پانی نہ ہو

 دل بھر آئے اور ابرِ دیدہ میں پانی نہ ہو

یہ زمین صحرا دکھائی دے جو بارانی نہ ہو

شوق اتنا سہل کیوں اس پار لے جائے مجھے

پھر پلٹ آؤں اگر دریا میں طغیانی نہ ہو

کان بجتے ہیں ہوا کی سیٹیوں پر رات بھر

چونک اٹھتا ہوں کہ آہٹ جانی پہچانی نہ ہو

ہو گئے بے خود تو ٹیسوں کا مزہ چھِن جائے گا

روکتا ہوں درد کی اتنی فراوانی نہ ہو

تیرے ہونے سے میرے دل میں ہے یادوں کی چمک

چاند بجھ جائے، اگر سورج میں تابانی نہ ہو

ڈھانپ لے مستی سے اگر مقدور ہے

پیرہن کیسا اگر احساسِ عریانی نہ ہو

جی رہا ہوں کہ اوروں سے بھی ہے وابستگی

موت آ جائے اگر کوئی پریشانی نہ ہو

ڈال دے شفق پر رات کی چلمن

میرے دروازے پہ ظاہر گھر کی ویرانی نہ ہو


سلیم شاہد

No comments:

Post a Comment