عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دریائے دینِ حق کی روانی حسینؑ ہے
پیاسی ہے نہرِ علقمہ پانی حسینؑ ہے
جس پر کسی زوال کا سایہ نہ پڑ سکا
اسلام تیری نور فشانی حسینؑ ہے
مردہ دلوں کو چاہیے دنیا کی آب و تاب
زندہ دلوں کی درد کہانی حسینؑ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دریائے دینِ حق کی روانی حسینؑ ہے
پیاسی ہے نہرِ علقمہ پانی حسینؑ ہے
جس پر کسی زوال کا سایہ نہ پڑ سکا
اسلام تیری نور فشانی حسینؑ ہے
مردہ دلوں کو چاہیے دنیا کی آب و تاب
زندہ دلوں کی درد کہانی حسینؑ ہے
اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا
آفتاب عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا
زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا
زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا
نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے
ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا
سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی
بے بسی کے لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی
عشق بات کرتا ہے دل طواف کرتا ہے
ارد گرد پھرنے سے عاشقی نہیں ہوتی
زندگی کے صحرا میں ایک چاند کافی ہے
قمقموں کی کثرت سے روشنی نہیں ہوتی
اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا
آفتابِ عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا
زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا
زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا
نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے
ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا
آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشکِ مہتاب تھے
وہ تو باغِ وفا کے عجب پھول تھے خوشبوئے خواب تھے
میں نے دیکھا سنا، حسن کا واقعہ، جب پڑھا تو کہا
وہ کتابِ محبت کی آیات تھے، عشق کا باب تھے
ان درختوں کے پیچھے کہیں میں بھی تھا، اک شگوفہ کھِلا
کچھ پرندے شناسا طبیعت کے تھے جو کہ نایاب تھے
سلام بر سیدہ فاطمہ زہرا
شانِ زہرا کا قصیدہ سورۂ کوثر ہوا
دشمنِ شاہِ دو عالؐم حشر تک ابتر ہوا
ارضِ خاکی پر فضیلت لامکاں کے گھر کی ہے
عرشِ نوری پر نمایاں فاطمؑہ کا گھر ہوا
رنگ سُرخ و سبز دونوں ایک ہیں مثلِ حنا
رزم میں شبیرؑ جیسے بزم میں شبرؑ ہوا