Showing posts with label منظر نقوی. Show all posts
Showing posts with label منظر نقوی. Show all posts

Friday, 21 July 2023

دریائے دینِ حق کی روانی حسین ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


دریائے دینِ حق کی روانی حسینؑ ہے

پیاسی ہے نہرِ علقمہ پانی حسینؑ ہے

جس پر کسی زوال کا سایہ نہ پڑ سکا

اسلام تیری نور فشانی حسینؑ ہے

مردہ دلوں کو چاہیے دنیا کی آب و تاب

زندہ دلوں کی درد کہانی حسینؑ ہے

Monday, 4 April 2022

اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

 اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

آفتاب عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا

زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا

زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا

نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے

ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا

Friday, 11 March 2022

سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

 سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

بے بسی کے لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی

عشق بات کرتا ہے دل طواف کرتا ہے

ارد گرد پھرنے سے عاشقی نہیں ہوتی

زندگی کے صحرا میں ایک چاند کافی ہے

قمقموں کی کثرت سے روشنی نہیں ہوتی

Sunday, 27 February 2022

اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

 اک عریضہ ہے دل مشتاق میں رکھا ہوا

آفتابِ عشق ہے آفاق میں رکھا ہوا

زندگی کا ذائقہ مجھ کو تواتر سے ملا

زہر میں رکھا ہوا تریاق میں رکھا ہوا

نفرتوں کے سب نوشتے اس نے ازبر کر لیے

ہے محبت کا صحیفہ طاق میں رکھا ہوا

Wednesday, 10 March 2021

آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشک مہتاب تھے

 آسمانوں سے آئے ہوئے نور تھے رشکِ مہتاب تھے

وہ تو باغِ وفا کے عجب پھول تھے خوشبوئے خواب تھے

میں نے دیکھا سنا، حسن کا واقعہ، جب پڑھا تو کہا

وہ کتابِ محبت کی آیات تھے، عشق کا باب تھے

ان درختوں کے پیچھے کہیں میں بھی تھا، اک شگوفہ کھِلا

کچھ پرندے شناسا طبیعت کے تھے جو کہ نایاب تھے

Saturday, 6 February 2021

شان زہرا کا قصیدہ سورۂ کوثر ہوا

 سلام بر سیدہ فاطمہ زہرا


شانِ زہرا کا قصیدہ سورۂ کوثر ہوا

دشمنِ شاہِ دو عالؐم حشر تک ابتر ہوا

ارضِ خاکی پر فضیلت لامکاں کے گھر کی ہے

عرشِ نوری پر نمایاں فاطمؑہ کا گھر ہوا

رنگ سُرخ و سبز دونوں ایک ہیں مثلِ حنا

رزم میں شبیرؑ جیسے بزم میں شبرؑ ہوا

Tuesday, 8 November 2016

زمین زادوں کے لب پر جلے فغاں کے چراغ

زمین زادوں کے لب پر جلے فغاں کے چراغ
تو ہم نے ٹوٹتے دیکھے ہیں آسماں کے چراغ
ہمیں تو عشقِ مسلسل نے روشنی بخشی
عبث دکھاتے ہو ہم کو یہاں وہاں کے چراغ
حکایتوں کی روایت کے پاسباں ہم ہیں
ہماری فکر میں روشن ہیں رفتگاں کے چراغ

بے سبب یوں تو سر شام نکل آتے ہیں

بے سبب یوں تو سرِ شام نکل آتے ہیں
ہم بلائیں تو انہیں کام نکل آتے ہیں
ایک مجنوں ہی نہیں دشت میں تنہا رویا
رونے والوں میں کئی نام نکل آتے ہیں
ملتے رہتے ہیں ہمیں زیست میں لوگ ایسے بھی
خاص ہوتے ہیں, مگر خام نکل آتے ہیں

Thursday, 6 October 2016

کنج تنہائی میں یہ دن بھی گزارے سارے

کنج تنہائی میں یہ دن بھی گزارے سارے
دل کے تارے کے سوا دور ہیں تارے سارے
ہم اسی راہ پہ چلتے ہوئے پہنچے ہیں یہاں
جس میں ہر دور کے ملتے ہیں اشارے سارے
پانچ دریاؤں کی لہروں پہ رواں رہتے ہیں
ہیں جو سر سبز خیالات ہمارے سارے

ملنے سے گھبرائے لیکن خبر ہماری پل پل تھی

ملنے سے گھبرائے لیکن، خبر ہماری پل پل تھی
میں تو ادھورا منظر تھا اور اس کی یاد مکمل تھی
اس نے دل کے رستے میں بھی فکر کے پھول اگاۓ ہیں
خوش بو چاروں اور گئی،۔۔ تو محفل محفل ہلچل تھی
وقتِ رخصت دونوں چپ تھے، چپ کی چیخیں دور گئیں
اس کی آنکھیں بارش تھیں اور میری نظر بھی جل تھل تھی

Tuesday, 24 June 2014

سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات

سچ کو جھوٹ بنا جاتا ہے بعض اوقات
بندہ ٹھوکر کھا جاتا ہے بعض اوقات
گھر کی چھت پر رم جھم بارش، جلتی دھوپ
یہ موسم بھی آ جاتا ہے بعض اوقات
اچھی قسمت، اچھا موسم، اچھے لوگ
پھر بھی دل گھبرا جاتا ہے بعض اوقات