تابِ فُرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیں
اسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیں
خُود فریبی سے تِرا لُطف جسے کہہ سکتے
اپنی قسمت میں وہ مُبہم سا اشارا بھی نہیں
موجِ ساحل ہی ڈبو دیتی تو کیا کہنا تھا
وہ سفینہ جسے طُوفاں کا سہارا بھی نہیں
وائے تقدیرِ محبت کبھی آتے جاتے
تُو نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پُکارا بھی نہیں
اتنے مانُوس ہیں اب شام کی تنہائی سے
غم کے ماروں کو تِرا قُرب گوارا بھی نہیں
کیا ہوا چشمِ کرم رُوٹھ گئی اے ماہر
دل مگر گردشِ ایام سے ہارا بھی نہیں
کیلاش ماہر
No comments:
Post a Comment