Sunday, 12 July 2026

سوال شام پہ آیا جواب شب آخر

 سوال شام پہ آیا جواب شب آخر

کشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخر

تمہارے غم مرے خواہاں نہ میرا اپنا وجود

کہاں سے لاؤں گی میں شدت طلب آخر

عنایت ان کی جو وہ حال پوچھ لیں ورنہ

کسی سے ان کے مراسم ہوئے ہیں کب آخر

محبتوں کی روایت تو کائنات میں ہے

تمہاری آنکھ ہے اول نہ میرے لب آخر

تمہارے نام سخن اور تم نہیں سمجھے

ہمارے شعر ہوئے حصۂ ادب آخر

نہیں ملا کوئی یہ بات پوچھنے والا

بنا لیا ہے یہ کیا زندگی کا ڈھب آخر

اڑا جو طائر ہستی تو پھر نہ ٹھہرے گا

نسیم کر تو سہی کوشش طرب آخر


وضاحت نسیم

No comments:

Post a Comment