Showing posts with label حبیب مشتاق. Show all posts
Showing posts with label حبیب مشتاق. Show all posts

Sunday, 22 October 2023

مری نظر میں وہ حقدار بادہ ہے ہی نہیں

 مِری نظر میں وہ حق دارِ بادہ ہے ہی نہیں

کہ جس کے ظرف کا دامن کشادہ یے ہی نہیں

تکلفات سے پُر ہیں مزاج لوگوں کے

یہاں کسی کی بھی گُفتار سادہ ہے ہی نہیں

میں آئینے سے گُزرتا ہوں روز کترا کر

کہ خود سے ملنے کا میرا ارادہ ہے ہی نہیں

Sunday, 20 August 2023

خواب آنکھوں سے جو ترتیل ہوا کرتے ہیں

 خواب آنکھوں سے جو ترتیل ہوا کرتے ہیں

اک صحیفے کی وہ تمثیل ہوا کرتے ہیں

گاؤں مدغم ہوں جو شہروں میں تو میٹھے چشمے

ایک دن زہر میں تبدیل ہوا کرتے ہیں

بعض اوقات مسافر کو شبِ ظلمت میں

راہ کے جگنو بھی قندیل ہوا کرتے ہیں

Sunday, 25 June 2023

ہوس کی منڈیوں میں آج بھی

 القارعہ


ہوس کی منڈیوں میں آج بھی 

محنت کشوں کے خون سے ہر سُو چراغاں ہے

زمیں کے قدرتی اور صنعتی

سارے وسائل

اور فروغِ زندگانی کے سبھی اسباب 

Saturday, 10 June 2023

تھے فاطمہ کے دلارے علی کے چین حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تھے فاطمہؑ کے دُلارے علیؑ کے چین حسینؑ

اور اس سے بڑھ کے تھے ناناؐ کے نورِ عین حسینؑ

تِری زبان میں تھی شہد سے بھی بڑھ کے مٹھاس

حیا و شرم کا پیکر تھے تیرے نین حسینؑ

میں اہلِ بیتؑ کی عظمت کا جب بھی ذکر کروں

مِرے لبوں سے نکلتا ہے بس حسینؑ حسینؑ

Wednesday, 7 December 2022

ان خرد مندوں نے میری جس قدر تضحیک کی

ان خرد مندوں نے میری جس قدر تضحیک کی

تیز تر اپنے جُنوں کی میں نے پھر تحریک کی

وا کروں گا میں زمانے پر درِ بابِ عدم

ایک دن تاریخ لکھ کر عرصۂ تاریک کی

مجھ سے ملنا ہے تو بل کھاتی وہ پگڈنڈی پکڑ

میرے گھر جاتی نہیں پکی سڑک نزدیک کی

Friday, 18 November 2022

سنا ہے اس کو سخن کے اصول آتے ہیں

سنا ہے اس کو سخن کے اصول آتے ہیں

کرے کلام تو باتوں میں پھول آتے ہیں

سنا ہے سحر میں اس کے ہیں مبتلا سارے

جب اس سے ملتے ہیں تو ہوش بھول آتے ہیں

سنا ہے کِھلتے ہیں ان کے مزاج گل کی طرح

تمہاری بزم میں جو دل ملول آتے ہیں