مِری نظر میں وہ حق دارِ بادہ ہے ہی نہیں
کہ جس کے ظرف کا دامن کشادہ یے ہی نہیں
تکلفات سے پُر ہیں مزاج لوگوں کے
یہاں کسی کی بھی گُفتار سادہ ہے ہی نہیں
میں آئینے سے گُزرتا ہوں روز کترا کر
کہ خود سے ملنے کا میرا ارادہ ہے ہی نہیں
مِری نظر میں وہ حق دارِ بادہ ہے ہی نہیں
کہ جس کے ظرف کا دامن کشادہ یے ہی نہیں
تکلفات سے پُر ہیں مزاج لوگوں کے
یہاں کسی کی بھی گُفتار سادہ ہے ہی نہیں
میں آئینے سے گُزرتا ہوں روز کترا کر
کہ خود سے ملنے کا میرا ارادہ ہے ہی نہیں
خواب آنکھوں سے جو ترتیل ہوا کرتے ہیں
اک صحیفے کی وہ تمثیل ہوا کرتے ہیں
گاؤں مدغم ہوں جو شہروں میں تو میٹھے چشمے
ایک دن زہر میں تبدیل ہوا کرتے ہیں
بعض اوقات مسافر کو شبِ ظلمت میں
راہ کے جگنو بھی قندیل ہوا کرتے ہیں
القارعہ
ہوس کی منڈیوں میں آج بھی
محنت کشوں کے خون سے ہر سُو چراغاں ہے
زمیں کے قدرتی اور صنعتی
سارے وسائل
اور فروغِ زندگانی کے سبھی اسباب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تھے فاطمہؑ کے دُلارے علیؑ کے چین حسینؑ
اور اس سے بڑھ کے تھے ناناؐ کے نورِ عین حسینؑ
تِری زبان میں تھی شہد سے بھی بڑھ کے مٹھاس
حیا و شرم کا پیکر تھے تیرے نین حسینؑ
میں اہلِ بیتؑ کی عظمت کا جب بھی ذکر کروں
مِرے لبوں سے نکلتا ہے بس حسینؑ حسینؑ
ان خرد مندوں نے میری جس قدر تضحیک کی
تیز تر اپنے جُنوں کی میں نے پھر تحریک کی
وا کروں گا میں زمانے پر درِ بابِ عدم
ایک دن تاریخ لکھ کر عرصۂ تاریک کی
مجھ سے ملنا ہے تو بل کھاتی وہ پگڈنڈی پکڑ
میرے گھر جاتی نہیں پکی سڑک نزدیک کی
سنا ہے اس کو سخن کے اصول آتے ہیں
کرے کلام تو باتوں میں پھول آتے ہیں
سنا ہے سحر میں اس کے ہیں مبتلا سارے
جب اس سے ملتے ہیں تو ہوش بھول آتے ہیں
سنا ہے کِھلتے ہیں ان کے مزاج گل کی طرح
تمہاری بزم میں جو دل ملول آتے ہیں