Showing posts with label پلوی مشرا. Show all posts
Showing posts with label پلوی مشرا. Show all posts

Tuesday, 8 March 2022

عالم مہک رہا تو گزرے جہاں جہاں ہے

 عالم مہک رہا تو گزرے جہاں جہاں ہے

تیرا جو کارواں ہے خوشبو کا کارواں ہے

شاید مِری نظر میں اشکوں کا قافلہ ہے

کچھ صاف دکھ نہ پائے سب کچھ دھواں دھواں ہے

ہم بھی اِدھر ہیں رُوٹھے، وہ بھی اُدھر خفا ہے

اب بات ہو تو کیسے؟ تنہائی درمیاں ہے

Sunday, 23 January 2022

کیوں تیرگی سی چھائی چراغوں کے درمیاں

 کیوں تیرگی سی چھائی چراغوں کے درمیاں

کیا حسن چھپ گیا ہے نقابوں کے درمیاں؟

وہ نیند میں بھی آنکھ سے اوجھل نہ ہو جناب

اس کو بسا لیا ہے نگاہوں کے درمیاں

شدت ہے پیاس میں تو سرور کے جا قریب

کب تشنگی مٹی ہے سرابوں کے درمیاں

Tuesday, 28 December 2021

زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاں

 زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاں

منزلوں کا راستہ دشوار ہوتا ہے یہاں

جو سفر کے لطف کا اندازہ کر سکتا نہیں

خوش سفر میں رہنے سے لاچار ہوتا ہے یہاں

آندھیاں، پُر خار رستے، سنگ روکیں کس طرح

جن کو گلشن کی کلی سے پیار ہوتا ہے یہاں

Monday, 27 December 2021

وہ ملا کے نظر اس ادا سے چلا

 وہ ملا کے نظر اس ادا سے چلا

جیسے ملنے کسی اپسرا سے چلا

سر جھکانے کی اس نے ادا سیکھ لی

جو ہمیشہ رضائے خدا سے چلا

اس دِیے کی حماقت ذرا دیکھیۓ

آج لڑنے وہ بہتی ہوا سے چلا

Tuesday, 29 June 2021

نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میں

 نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میں

یہ بات آج کھلنے لگی تیرے شہر میں

جو آشنا تھے کل مِرے سب گم کہاں ہوئے

ہجرت کی چاہ پلنے لگی تیرے شہر میں

مرنے کا مارنے کا یہ کیا دور آ گیا

جینے کی آس ٹلنے لگی تیرے شہر میں