عالم مہک رہا تو گزرے جہاں جہاں ہے
تیرا جو کارواں ہے خوشبو کا کارواں ہے
شاید مِری نظر میں اشکوں کا قافلہ ہے
کچھ صاف دکھ نہ پائے سب کچھ دھواں دھواں ہے
ہم بھی اِدھر ہیں رُوٹھے، وہ بھی اُدھر خفا ہے
اب بات ہو تو کیسے؟ تنہائی درمیاں ہے
عالم مہک رہا تو گزرے جہاں جہاں ہے
تیرا جو کارواں ہے خوشبو کا کارواں ہے
شاید مِری نظر میں اشکوں کا قافلہ ہے
کچھ صاف دکھ نہ پائے سب کچھ دھواں دھواں ہے
ہم بھی اِدھر ہیں رُوٹھے، وہ بھی اُدھر خفا ہے
اب بات ہو تو کیسے؟ تنہائی درمیاں ہے
کیوں تیرگی سی چھائی چراغوں کے درمیاں
کیا حسن چھپ گیا ہے نقابوں کے درمیاں؟
وہ نیند میں بھی آنکھ سے اوجھل نہ ہو جناب
اس کو بسا لیا ہے نگاہوں کے درمیاں
شدت ہے پیاس میں تو سرور کے جا قریب
کب تشنگی مٹی ہے سرابوں کے درمیاں
زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاں
منزلوں کا راستہ دشوار ہوتا ہے یہاں
جو سفر کے لطف کا اندازہ کر سکتا نہیں
خوش سفر میں رہنے سے لاچار ہوتا ہے یہاں
آندھیاں، پُر خار رستے، سنگ روکیں کس طرح
جن کو گلشن کی کلی سے پیار ہوتا ہے یہاں
وہ ملا کے نظر اس ادا سے چلا
جیسے ملنے کسی اپسرا سے چلا
سر جھکانے کی اس نے ادا سیکھ لی
جو ہمیشہ رضائے خدا سے چلا
اس دِیے کی حماقت ذرا دیکھیۓ
آج لڑنے وہ بہتی ہوا سے چلا
نفرت کی آگ جلنے لگی تیرے شہر میں
یہ بات آج کھلنے لگی تیرے شہر میں
جو آشنا تھے کل مِرے سب گم کہاں ہوئے
ہجرت کی چاہ پلنے لگی تیرے شہر میں
مرنے کا مارنے کا یہ کیا دور آ گیا
جینے کی آس ٹلنے لگی تیرے شہر میں