عالم مہک رہا تو گزرے جہاں جہاں ہے
تیرا جو کارواں ہے خوشبو کا کارواں ہے
شاید مِری نظر میں اشکوں کا قافلہ ہے
کچھ صاف دکھ نہ پائے سب کچھ دھواں دھواں ہے
ہم بھی اِدھر ہیں رُوٹھے، وہ بھی اُدھر خفا ہے
اب بات ہو تو کیسے؟ تنہائی درمیاں ہے
یہ حسن کی ادا بھی ہم کو سمجھ نہ آتی
تھوڑی سی بس عیاں ہے باقی تو سب نہاں ہے
بے گھر بھلے ہے لیکن ہنس کے وہ کہہ رہا ہے
بستر مِری زمیں ہے، چھت میرا آسماں ہے
پلوی مشرا
No comments:
Post a Comment