کہیں عزت کہیں انساں نے شرافت بیچی
کہیں کردار کو بیچا کہیں سیرت بیچی
آج انسان نے اجداد کی عظمت بیچی
اور پردے میں کہیں عصمت و عفت بیچی
اس سے بڑھ کر بھی ہے ذلت کی کوئی حد یارو
بیچ ڈالے کہیں اسلاف کے مرقد یارو
کہیں عزت کہیں انساں نے شرافت بیچی
کہیں کردار کو بیچا کہیں سیرت بیچی
آج انسان نے اجداد کی عظمت بیچی
اور پردے میں کہیں عصمت و عفت بیچی
اس سے بڑھ کر بھی ہے ذلت کی کوئی حد یارو
بیچ ڈالے کہیں اسلاف کے مرقد یارو
خزانہ
یہ میری دولت، یہ میری دولت
جو میری محنت کا ہے نتیجہ
جو میری عزت کا ہے ذریعہ
جو میری شہرت کا ہے وسیلہ
وہ مثل اولاد جس کو چاہا
یہ میری دولت، یہ میری دولت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ماں اور کربلا کی مائیں
ہر دھوپ سے بچائے جو وہ سائباں ہے ماں
بچہ اگر ہے شاد تو پھر شادماں ہے ماں
بچہ ہے گر اداس تو پھر نیم جاں ہے ماں
ماں کا شرف یہ سب سے بڑا ہے کہ ماں ہے ماں
ہر ہر عمل میں اس کے صفت چارہ گر کی ہے
جنت اسی کے پاؤں کے نیچے بشر کی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب کسی کو کہیں ہوا ہے عشق
پھر چھپائے نہیں چھپا ہے عشق
عشق کی روح پر جو ہو بنیاد
تب کہیں جا کے دیر پا ہے عشق
جو انیس و دبیر ہیں ان کا
مر بھر ذکر کربلا ہے عشق
دل سے دھڑکن خون سے عزمِ سفر لے جائے گا
وقت اک دن چھین کر سارے ہنر لے جائے گا
ہاں دُعا مانگی تھی لیکن یہ تو سوچا بھی نہ تھا
موسمِ برسات سب دیوار و در لے جائے گا
آج اس تِتلی کو ان پھولون پہ اُڑنے دیجئے
کل کوئی جھونکا ہوا کا اس کے پَر لے جائے گا