Showing posts with label عظیم امروہوی. Show all posts
Showing posts with label عظیم امروہوی. Show all posts

Sunday, 6 April 2025

کہیں عزت کہیں انساں نے شرافت بیچی

 کہیں عزت کہیں انساں نے شرافت بیچی

کہیں کردار کو بیچا کہیں سیرت بیچی

آج انسان نے اجداد کی عظمت بیچی

اور پردے میں کہیں عصمت و عفت بیچی

اس سے بڑھ کر بھی ہے ذلت کی کوئی حد یارو

بیچ ڈالے کہیں اسلاف کے مرقد یارو

Wednesday, 19 March 2025

خزانہ یہ میری دولت، یہ میری دولت

 خزانہ


یہ میری دولت، یہ میری دولت

جو میری محنت کا ہے نتیجہ

جو میری عزت کا ہے ذریعہ

جو میری شہرت کا ہے وسیلہ

وہ مثل اولاد جس کو چاہا

یہ میری دولت، یہ میری دولت

Saturday, 15 June 2024

ہر دھوپ سے بچائے جو وہ سائباں ہے ماں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

ماں اور کربلا کی مائیں


ہر دھوپ سے بچائے جو وہ سائباں ہے ماں

بچہ اگر ہے شاد تو پھر شادماں ہے ماں

بچہ ہے گر اداس تو پھر نیم جاں ہے ماں

ماں کا شرف یہ سب سے بڑا ہے کہ ماں ہے ماں

ہر ہر عمل میں اس کے صفت چارہ گر کی ہے

جنت اسی کے پاؤں کے نیچے بشر کی ہے

Tuesday, 14 May 2024

مر بھر ذکر کربلا ہے عشق

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب کسی کو کہیں ہوا ہے عشق

پھر چھپائے نہیں چھپا ہے عشق

عشق کی روح پر جو ہو بنیاد

تب کہیں جا کے دیر پا ہے عشق

جو انیس و دبیر ہیں ان کا

مر بھر ذکر کربلا ہے عشق

Saturday, 17 April 2021

دل سے دھڑکن خون سے عزم سفر لے جائے گا

 دل سے دھڑکن خون سے عزمِ سفر لے جائے گا

وقت اک دن چھین کر سارے ہنر لے جائے گا

ہاں دُعا مانگی تھی لیکن یہ تو سوچا بھی نہ تھا

موسمِ برسات سب دیوار و در لے جائے گا

آج اس تِتلی کو ان پھولون پہ اُڑنے دیجئے

کل کوئی جھونکا ہوا کا اس کے پَر لے جائے گا