Showing posts with label ارمان رامپوری. Show all posts
Showing posts with label ارمان رامپوری. Show all posts

Thursday, 1 January 2026

اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے

 اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے

شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے

اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ

مانا کہ ابھی تو مِرا ہمراز نہیں ہے

تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ

شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے

Wednesday, 30 July 2025

بیتابیٔ دل شوق کا اظہار نہ کر دے

 بیتابیٔ دل شوق کا اظہار نہ کر دے

اس شوخ کو الفت سے خبردار نہ کر دے

گر یہ ہی فراوانیاں ہیں درد و الم کی

یہ عشق کہیں جینے سے بیزار نہ کر دے

ہے ان کو شفا پُرسش در پردہ سے منظور

ڈر ہے یہ مجھے اور بھی بیمار نہ کر دے

Thursday, 10 July 2025

گر مظہر وحدت ہے سب کفر و مسلمانی

 گر مظہر وحدت ہے سب کفر و مسلمانی

شیطان کے تابع ہے کیوں فطرت انسانی

پابندِ سلاسل ہوں آئینِ محبت میں

دل ہی تو شکستہ ہے باقی ہے پشیمانی

بیمار محبت کو شاید کہ قرار آیا

شاہد ہے فضاؤں میں تاروں کی پریشانی

Wednesday, 9 July 2025

درد حد سے بڑھ گیا اب اس کا درماں ہو تو کیا

 درد حد سے بڑھ گیا اب اس کا درماں ہو تو کیا

شیشۂ دل 💔 توڑ کر کوئی پشیماں ہو تو کیا

حسرتوں میں یاں بدل بیٹھے ہیں ساری آرزو

اب کوئی چشمِ کرم مائل بہ احساں ہو تو کیا

اب شبِ عشرت کہاں ہے کوئی مانندِ شفق

شامتِ اعمال سے چاکِ گریباں ہو تو کیا