اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے
شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے
اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ
مانا کہ ابھی تو مِرا ہمراز نہیں ہے
تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ
شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے
اس بزم میں میرا کوئی دمساز نہیں ہے
شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے
اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ
مانا کہ ابھی تو مِرا ہمراز نہیں ہے
تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ
شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے
بیتابیٔ دل شوق کا اظہار نہ کر دے
اس شوخ کو الفت سے خبردار نہ کر دے
گر یہ ہی فراوانیاں ہیں درد و الم کی
یہ عشق کہیں جینے سے بیزار نہ کر دے
ہے ان کو شفا پُرسش در پردہ سے منظور
ڈر ہے یہ مجھے اور بھی بیمار نہ کر دے
گر مظہر وحدت ہے سب کفر و مسلمانی
شیطان کے تابع ہے کیوں فطرت انسانی
پابندِ سلاسل ہوں آئینِ محبت میں
دل ہی تو شکستہ ہے باقی ہے پشیمانی
بیمار محبت کو شاید کہ قرار آیا
شاہد ہے فضاؤں میں تاروں کی پریشانی
درد حد سے بڑھ گیا اب اس کا درماں ہو تو کیا
شیشۂ دل 💔 توڑ کر کوئی پشیماں ہو تو کیا
حسرتوں میں یاں بدل بیٹھے ہیں ساری آرزو
اب کوئی چشمِ کرم مائل بہ احساں ہو تو کیا
اب شبِ عشرت کہاں ہے کوئی مانندِ شفق
شامتِ اعمال سے چاکِ گریباں ہو تو کیا