Showing posts with label عادل لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label عادل لکھنوی. Show all posts

Friday, 11 April 2025

بہت دن میں ملی ہو یہ بتاؤ حال کیسا ہے

 زعفرانی کلام


بہت دن میں ملی ہو یہ بتاؤ حال کیسا ہے

تمہاری زندگی کے ساتھ اب جنجال کتنے ہیں

تمہاری سیٹنگ کی پائیداری کتنی قائم ہے

تمہارے دوسرے شوہر کے سر میں بال کتنے ہیں

تمہاری کوئی فرمائش کبھی رد تو نہیں کرتا

وہ ہفتے میں تمہیں سنیما کے کتنے شو دکھاتا ہے

Sunday, 8 December 2024

جناب دم کی عجب نفسیات ہوتی ہے

 زعفرانی کلام

دُم


جناب دُم کی عجب نفسیات ہوتی ہے

کہ اس کی جنبش ادنیٰ میں بات ہوتی ہے

وفا کے جذبے کا اظہار دُم ہلانا ہے

جو دُم کھڑی ہے وہ نفرت کا تازیانہ ہے

جو لمبی دُم ہے وہ عالی صفات ہوتی ہے

جو مختصر ہے بڑی واہیات ہوتی ہے

Tuesday, 12 November 2024

کیا جوانی میں کھیل کھیلے ہیں

 زعفرانی کلام


کیا جوانی میں کھیل کھیلے ہیں

اب بڑھاتے میں ہم اکیلے ہیں

محفل گل رخاں میں رہتے تھے

ہم بھی کیسے جہاں میں رہتے تھے

ہائے کیسا بدل گیا منظر

آئینہ تھوکتا ہے اب منہ پر

Monday, 11 November 2024

جب محبت حال پر اپنے کرم فرما گئی

 کثرت اولاد (زعفرانی کلام)


جب محبت حال پر اپنے کرم فرما گئی

عاشقی قیدِ شریعت میں جب اپنی آ گئی

کثرت اولاد کے جلوے ستم ڈھانے لگے

ہم میاں بیوی قریب آنے سے کترانے لگے

اس قدر بچے بڑھے رومانس چوپٹ ہو گیا

اس طرف کمرہ، ادھر دالان چوپٹ ہو گیا