Showing posts with label ہاشم ندیم. Show all posts
Showing posts with label ہاشم ندیم. Show all posts

Thursday, 9 June 2022

تو چلو نا اس خواب میں چلتے ہیں

 خواب ہے تو خواب ہی سہی 

تو پھر چلو نا 

چلو

چلو خواب میں ملتے ہیں زُہرا

خواب میں ملتے ہیں

اور اسی خواب میں 

Friday, 4 February 2022

سنو تمہاری وفا پ اگرچہ پورا یقین ہے

 سنو تمہاری وفا پر

اگرچہ پورا یقین ہے

مگر بدلتی رُتوں کے وار کا کچھ بھروسہ نہیں

سو گر کبھی ایسا ہو جائے

کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہو جائے

اور میری روح کی کومل پنکھڑیاں

Thursday, 29 July 2021

اب فقط اک ثانوی کردار بننا چاہتا ہوں

ثانوی کردار


کیا تم نے کبھی دیکھا ہے؟

کہانی کا کوئی ثانوی کردار

گلی کے اندھیرے نکڑ پر

کسی لیمپ پوسٹ تلے

سگریٹ کا دھواں اڑاتا وہ اجنبی

Monday, 26 July 2021

بارش جیسی لگتی ہو

 جب دھیمے دهیمے ہنستی ہو

اس بارش جیسی لگتی ہو

تهوڑی دل کی کہتی ہو

زیاده دل میں رکهتی ہو

کیوں جاؤں رنگریز کے پاس

تم تو سیاه میں جچتی ہو

Tuesday, 20 July 2021

جس ساحل پر تم مجھے روتا چھوڑ گئے تھے

 جس ساحل پر تم

مجھے روتا چھوڑ گئے تھے

میں آج بھی اس ساحل کی باسی ہوں

ساحلوں پر بستی ہوں

سیپیاں چنتی رہتی ہوں

ریت محل بُنتی ہوں

Monday, 19 July 2021

رخصت ہوا تو ہاتھ ملا کر نہیں گیا

 رخصت ہوا تو ہاتھ ملا کر نہیں گیا

وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا

جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

شاید وہ مل ہی جائے 

مگر جستجو ہے شرط

Friday, 25 June 2021

سن اے نازک اندام یہ ہوا کی سرسراہٹ ہے

 جنوں کی ہر زنجیر کی کنجی تمہارے پاس ہے


سن اے نازک اندام

یہ ہوا کی سرسراہٹ ہے

یا تمہارے کومل قدموں کی چاپ

میرے پیروں میں پڑی بیڑیوں کی

یا تمہارے پازیب کی جھنکار

Wednesday, 13 January 2021

تیرا عشق ہے زہے نصیب

 عشق زہے نصیب


تیرا ہجر ہے یا میرا رقیب

میں پاس ہوں، تُو نہیں قریب

ہوئے یار دشمن، نہ کوئی حبیب

تیرا عشق ہے، زہے نصیب

میرا ہجر ہے، زہے نصیب

Tuesday, 1 December 2020

ہاں ‌مجھے یاد ہے بچپن کا وہ دسمبر

 بچپن کا دسمبر


ہاں ‌مجھے یاد ہے

بچپن کا وہ دسمبر

ٹھٹھرتی ڈھلتی شاموں میں

آنگن کی دیوار سے جھلکتی دھوپ

جلتے ہوئے کوئلے کی مہک