خواب ہے تو خواب ہی سہی
تو پھر چلو نا
چلو
چلو خواب میں ملتے ہیں زُہرا
خواب میں ملتے ہیں
اور اسی خواب میں
خواب ہے تو خواب ہی سہی
تو پھر چلو نا
چلو
چلو خواب میں ملتے ہیں زُہرا
خواب میں ملتے ہیں
اور اسی خواب میں
سنو تمہاری وفا پر
اگرچہ پورا یقین ہے
مگر بدلتی رُتوں کے وار کا کچھ بھروسہ نہیں
سو گر کبھی ایسا ہو جائے
کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہو جائے
اور میری روح کی کومل پنکھڑیاں
ثانوی کردار
کیا تم نے کبھی دیکھا ہے؟
کہانی کا کوئی ثانوی کردار
گلی کے اندھیرے نکڑ پر
کسی لیمپ پوسٹ تلے
سگریٹ کا دھواں اڑاتا وہ اجنبی
جب دھیمے دهیمے ہنستی ہو
اس بارش جیسی لگتی ہو
تهوڑی دل کی کہتی ہو
زیاده دل میں رکهتی ہو
کیوں جاؤں رنگریز کے پاس
تم تو سیاه میں جچتی ہو
جس ساحل پر تم
مجھے روتا چھوڑ گئے تھے
میں آج بھی اس ساحل کی باسی ہوں
ساحلوں پر بستی ہوں
سیپیاں چنتی رہتی ہوں
ریت محل بُنتی ہوں
رخصت ہوا تو ہاتھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا
شاید وہ مل ہی جائے
مگر جستجو ہے شرط
جنوں کی ہر زنجیر کی کنجی تمہارے پاس ہے
سن اے نازک اندام
یہ ہوا کی سرسراہٹ ہے
یا تمہارے کومل قدموں کی چاپ
میرے پیروں میں پڑی بیڑیوں کی
یا تمہارے پازیب کی جھنکار
عشق زہے نصیب
تیرا ہجر ہے یا میرا رقیب
میں پاس ہوں، تُو نہیں قریب
ہوئے یار دشمن، نہ کوئی حبیب
تیرا عشق ہے، زہے نصیب
میرا ہجر ہے، زہے نصیب
بچپن کا دسمبر
ہاں مجھے یاد ہے
بچپن کا وہ دسمبر
ٹھٹھرتی ڈھلتی شاموں میں
آنگن کی دیوار سے جھلکتی دھوپ
جلتے ہوئے کوئلے کی مہک