سنو تمہاری وفا پر
اگرچہ پورا یقین ہے
مگر بدلتی رُتوں کے وار کا کچھ بھروسہ نہیں
سو گر کبھی ایسا ہو جائے
کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہو جائے
اور میری روح کی کومل پنکھڑیاں
تمہیں کسی ببول کی مانند چھبنے لگیں
تو بیتے دنوں کو یاد نہ کرنا
کہ یادوں کا زہر، زخم کو بھرنے نہیں دیتا
ہاں مگر دیکھو
کبھی اُن باتوں سے نفرت نہ کرنا
جو ہم نے گھنٹوں ایک ساتھ مل کرکی تھیں
کہ باتیں تو معصوم رابطہ ہوتی ہیں
اور کسی کم نصیب کی بے زبطی سے
ان باتوں کا کیا لینا دینا
اور سنو
کبھی ان رنگوں سے نفرت نہ کرنا
جو مجھے بہت اچھے لگتے تھے
کہ رنگ تو روح کو اُجالتے ہیں
اور کسی کے مقدر کے اندھیروں سے
ان رنگوں کا کیا لینا دینا
اے میری وفا کے مالک
کبھی اُن نظاروں سے نفرت نہ کرنا
جو ہم نے ایک ساتھ دیکھے تھے
کہ نظارے تو قدرت کا حُسن ہوتے ہیں
اور کسی حرماں نصیب کی بدصورت یادوں سے
ان نظاروں کا کیا لینا دینا
کبھی ان راستوں سے نفرت نہ کرنا
جن پر ہم چلے تھے
کہ راستے تو منزل کا پتہ دیتے ہیں
اور کسی کے قدموں کی بے ثباتی سے
ان راستوں کا کیا لینا دینا
میرے ہم نفس
بس مجھ سے
اور صرف مجھ سے ہی نفرت کرنا
ہاشم ندیم
No comments:
Post a Comment