اس راہ سے میں اب بھی گزرتا ہوں روز روز
اے دوست تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز روز
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ مر جاؤں میں، مگر
وہ جانتے نہیں کہ میں مرتا ہوں روز روز
جو ہجر میں بکھر گئے، وہ لوگ اور تھے
دیکھو، میں ہجر میں بھی سنورتا ہوں روز روز
اس راہ سے میں اب بھی گزرتا ہوں روز روز
اے دوست تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز روز
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ مر جاؤں میں، مگر
وہ جانتے نہیں کہ میں مرتا ہوں روز روز
جو ہجر میں بکھر گئے، وہ لوگ اور تھے
دیکھو، میں ہجر میں بھی سنورتا ہوں روز روز
زخم ہیں بے حساب مت مانگو
مجھ سے تُم میرے خواب مت مانگو
نیکیاں نیکیاں ہی کرتے رہو
نیکیوں کا حساب مت مانگو
ننھا جگنو ہوں میں مِرا کیا ہے
مجھ سے تُم ماہتاب مت مانگو
جس رستے پر ہم کو چلنا ہوتا ہے
وہ رستہ تو ٹیڑھا میڑھا ہوتا ہے
شانِ نبیؐ تو دیکھ اسی سے ملتے ہیں
جس نے ان پر کُوڑا پھینکا ہوتا ہے
روزانہ سب شوق سے دیکھا کرتے ہیں
روزانہ دنیا میں تماشا ہوتا ہے
میرے لفظوں کی زندگی کیا ہے
تم نہ سمجھو تو شاعری کیا ہے
ہم نے اپنا وجود کھویا ہے
ہم سے پوچھو کہ عاشقی کیا ہے
اے ستاروں کے بادشہ! بتلا
چاند عاشق ہے چاندنی کیا ہے
تمہاری یاد میں ایسے بھی دن گزارے ہیں
کہ بار بار تمہیں بس تمہیں پکارے ہیں
پرائے خیر پرائے ہیں اُن کا کیا شکوہ
ہمارے اپنے ہی دشمن بنے ہمارے ہیں
ہمارا جو بھی کرو اب تمہاری مرضی ہے
کہ ہم ہمارے نہیں اب تو ہم تمہارے ہیں