اس راہ سے میں اب بھی گزرتا ہوں روز روز
اے دوست تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز روز
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ مر جاؤں میں، مگر
وہ جانتے نہیں کہ میں مرتا ہوں روز روز
جو ہجر میں بکھر گئے، وہ لوگ اور تھے
دیکھو، میں ہجر میں بھی سنورتا ہوں روز روز
رک رک کے سوچتا ہوں تِرے جانے کا سبب
چل چل کے جانِ من میں ٹھہرتا ہوں روز روز
آؤ، تم اپنی بانہوں میں مجھ کو سمیٹ لو
دیکھو میں کرچیوں سا بکھرتا ہوں روز روز
نور عین ساحر
No comments:
Post a Comment