Saturday, 22 January 2022

اس راہ سے میں اب بھی گزرتا ہوں روز روز

 اس راہ سے میں اب بھی گزرتا ہوں روز روز 

اے دوست تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز روز 

کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ مر جاؤں میں، مگر

وہ جانتے نہیں کہ میں مرتا ہوں روز روز 

جو ہجر میں بکھر گئے، وہ لوگ اور تھے

دیکھو، میں ہجر میں بھی سنورتا ہوں روز روز 

رک رک کے سوچتا ہوں تِرے جانے کا سبب

چل چل کے جانِ من میں ٹھہرتا ہوں روز روز 

آؤ، تم اپنی بانہوں میں مجھ کو سمیٹ لو

دیکھو میں کرچیوں سا بکھرتا ہوں روز روز 


نور عین ساحر

No comments:

Post a Comment