Showing posts with label فرحان عباس بابر. Show all posts
Showing posts with label فرحان عباس بابر. Show all posts

Friday, 11 August 2023

مانوں نہ کبھی داتا مٹی کے خداؤں کو

 مانوں نہ کبھی داتا، مٹی کے خداؤں کو

اوقات میں ہوں لاتا، مٹی کے خداؤں کو

سب نظریں جھکاتے ہیں، میں آنکھیں دکھاتا ہوں

اک آنکھ نہیں بھاتا، مٹی کے خداؤں کو

جو آنکھ میں جھونکی ہے، وہ دُھول ہے چٹوائی

میں ایسے ہوں تڑپاتا، مٹی کے خداؤں کو

Friday, 19 May 2023

خاص فرقے نہ ذات کا غم ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


خاص فرقے نہ ذات کا غم ہے

کربلا کائنات کا غم ہے

درسِ سبطِ نبی نہیں سمجھی

ہم کو ایسی حیات کا غم ہے

بوند بوند آبدیدہ ہے پانی

اور بظاہر فرات کا غم ہے

Thursday, 4 May 2023

ہر چیز سے عزیز ہے عزت رسول کی

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہر چیز سے عزیز ہے عزت رسولﷺ کی

نامُوس پر نثار ہے امت رسولﷺ کی

ویسے ہی تابناک نہیں چرخ کے رتن

شمس و قمر نے کی ہے اطاعت رسولﷺ کی

وہ بادشاہِ شہرِ سخن ہے یقین سے

حصے میں جس کے آئی ہے مِدحت رسولﷺ کی

Tuesday, 2 May 2023

ٹوٹتے ٹوٹتے بنا ہوں میں

 ٹوٹتے ٹوٹتے بنا ہوں میں

دردمندوں کا قہقہہ ہوں میں

اپنے بارے میں سوچنا میرا

تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں

ہاں تجھے بھولنا نہیں ممکن

ہاں تجھے یاد کر رہا ہوں میں

Wednesday, 5 May 2021

بنام علم وہ سودا ہوا ہے

بنامِ علم وہ سودا ہوا ہے

اک اک دلّال شرمندہ ہوا ہے

بتانِ شہر کے ماتھے بتائیں

قلندر طیش میں آیا ہوا ہے

ہماری آنکھ دریا ہوگئی تھی

ہماری آنکھ پر قبضہ ہوا ہے

Friday, 4 December 2020

میرے لہجے میں اسے محشر ملا

میرے لہجے میں اسے محشر ملا

کیا کروں جو دل مجھے پتھر ملا

جو کتابوں میں نہیں تھا وہ جواب

مجھ کو میری ذات کےاندر ملا

کتنے قابل بچے ہیں دیکھو زرا

جو ملا وہ اپنے سے بہتر ملا