مانوں نہ کبھی داتا، مٹی کے خداؤں کو
اوقات میں ہوں لاتا، مٹی کے خداؤں کو
سب نظریں جھکاتے ہیں، میں آنکھیں دکھاتا ہوں
اک آنکھ نہیں بھاتا، مٹی کے خداؤں کو
جو آنکھ میں جھونکی ہے، وہ دُھول ہے چٹوائی
میں ایسے ہوں تڑپاتا، مٹی کے خداؤں کو
مانوں نہ کبھی داتا، مٹی کے خداؤں کو
اوقات میں ہوں لاتا، مٹی کے خداؤں کو
سب نظریں جھکاتے ہیں، میں آنکھیں دکھاتا ہوں
اک آنکھ نہیں بھاتا، مٹی کے خداؤں کو
جو آنکھ میں جھونکی ہے، وہ دُھول ہے چٹوائی
میں ایسے ہوں تڑپاتا، مٹی کے خداؤں کو
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
خاص فرقے نہ ذات کا غم ہے
کربلا کائنات کا غم ہے
درسِ سبطِ نبی نہیں سمجھی
ہم کو ایسی حیات کا غم ہے
بوند بوند آبدیدہ ہے پانی
اور بظاہر فرات کا غم ہے
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہر چیز سے عزیز ہے عزت رسولﷺ کی
نامُوس پر نثار ہے امت رسولﷺ کی
ویسے ہی تابناک نہیں چرخ کے رتن
شمس و قمر نے کی ہے اطاعت رسولﷺ کی
وہ بادشاہِ شہرِ سخن ہے یقین سے
حصے میں جس کے آئی ہے مِدحت رسولﷺ کی
ٹوٹتے ٹوٹتے بنا ہوں میں
دردمندوں کا قہقہہ ہوں میں
اپنے بارے میں سوچنا میرا
تیرے بارے میں سوچتا ہوں میں
ہاں تجھے بھولنا نہیں ممکن
ہاں تجھے یاد کر رہا ہوں میں
بنامِ علم وہ سودا ہوا ہے
اک اک دلّال شرمندہ ہوا ہے
بتانِ شہر کے ماتھے بتائیں
قلندر طیش میں آیا ہوا ہے
ہماری آنکھ دریا ہوگئی تھی
ہماری آنکھ پر قبضہ ہوا ہے
میرے لہجے میں اسے محشر ملا
کیا کروں جو دل مجھے پتھر ملا
جو کتابوں میں نہیں تھا وہ جواب
مجھ کو میری ذات کےاندر ملا
کتنے قابل بچے ہیں دیکھو زرا
جو ملا وہ اپنے سے بہتر ملا