جو شخص محبت میں وفا کا نہیں قائل
یعنی کہ وہ دنیا میں خدا کا نہیں قائل
دھوکہ مجھے دینا ہے تو یہ ظرف ہے تیرا
لیکن میں تعلق میں جفا کا نہیں قائل
میں مان تو لیتا ہوں کہ یہ حکم ہے اس کا
جو اس نے مجھے دی ہے سزا کا نہیں قائل
شاہی کا مزہ تب ہے ملے مانگے بِنا سب
جو بھیک لگے ایسی عطا کا نہیں قائل
بےسود یہ کوشش نہ کرو چارہ گری کی
یہ زخمِ محبت ہے دوا کا نہیں قائل
اب سر پہ پڑی ہے تو وہ سجدوں میں پڑا ہے
جو کہتا تھا سب کو میں دعا کا نہیں قائل
گر اس میں ہنر ہے تو صفی زور دکھائے
میں اس کی کسی جھوٹی ہوا کا نہیں قائل
مزمل صفی
No comments:
Post a Comment