Showing posts with label فیاض ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label فیاض ہاشمی. Show all posts

Tuesday, 15 November 2022

نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری

 غزل گیت


نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری

تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری

نہ تم آئے، نہ چین آیا، نہ موت آئی شبِ وعدہ

دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری

عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں

ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری

Tuesday, 9 August 2022

آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

 ملی نغمہ


آؤ بچو، سیر کرائیں تم کو پاکستان کی

جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

پاکستان زندہ باد! پاکستان زندہ باد

آؤ بچو، سیر کرائیں تم کو پاکستان کی


دیکھو یہ ہے سندھ یہاں ظالم داہر کا ٹولہ تھا

Friday, 6 January 2017

ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے

فلمی گیت

ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے

بچپن کے ہم ساتھی دونوں صدا رہے ہیں سات 
ایک ہی سپنا دیکھیں جیسے دو آنکھیں دن رات 
دنیا نے کہی سو بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے 
کیا کیا ہوا دل کے سات، کیا کیا ہوا دل کے سات 

کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا

فلمی گیت

کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا
خبر کیا تھی کہ یہ انجام ہو گا دل لگانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے ۔۔۔۔۔

دلِ بے تاب سے کہہ دو تڑپنے سے نہ گھبرائے
یہی تو وقت آیا ہے وفا کو آزمانے کا
کہیں دو دل جو مل جاتے تو بگڑتا کیا زمانے کا

Thursday, 5 January 2017

رات چلی ہے جھوم کے راہوں کو تیری چوم کے آ بھی جا

فلمی گیت

رات چلی ہے جھوم کے
راہوں کو تیری چوم کے
آ بھی جا، آ بھی جا

چپکے سے آ کر آنچل تو رکھ دے آنکھوں پر
کھویا ہوا ہوں، چونکا دے مجھ کو چھیڑ کر
شانوں پہ میری، بانہیں ہوں تیری

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا

فلمی گیت

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا
انہیں کوئی کاش یہ بتا دے مقام اونچا ہے سادگی کا 

انہیں بھلا زخم کی خبر کیا کہ تیر چلتے ہوئے نہ دیکھا 
اداس آنکھوں میں آرزوؤں کا خون جلتے ہوئے نہ دیکھا
اندھیرا چھایا ہے ان کے آگے حسین غفلت کی روشنی کا
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا

ہم نے جو پھول چنے دل میں چبھے جاتے ہیں

گیت

ہم نے جو پھول چنے دل میں چبھے جاتے ہیں
کتنے پیارے ہیں جو غم ہنس کے سہے جاتے ہیں

امتحاں جو نہ کبھی لے وہ محبت ہی نہیں 
درد ایسا ہے تڑپنے کی اجازت ہی نہیں
پیار میں ایسے بھی کچھ روگ سہے جاتے ہیں
ہم نے جو پھول چنے ۔۔۔۔۔

Saturday, 24 December 2016

نہ جانے کیسا سفر ہے میرا جہاں ہے منزل وہیں لٹیرا

فلمی گیت

نہ جانے کیسا سفر ہے میرا
جہاں ہے منزل وہیں لٹیرا
نہ جانے کیسا ۔۔۔۔۔

ایک ہوا کا جھونکا آیا گھر کے دیپ بجھانے
کہہ نہ سکوں میں چپ جو رہوں تو پیار مِرا نہ مانے
جس کو دینا تھا سہارا، لوٹ گیا گھر میرا

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے

فلمی گیت

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے
اک بھول ہی تھا میرا پیار او ساجنا
چلو اچھا ہوا تم بھول گئے

میں سمجھوں گی باورے نیناں
دیکھ رہے تھے سپنے
کھو کر تم کو سب کچھ کھویا

سن ساجنا دکھی من کی پکار

فلمی گیت

سن ساجنا دُکھی من کی پکار
ہوا بیری سنسار، بین کرے میرا پیار
سن ساجنا ۔۔۔۔۔

دکھ دینے والے یہ سمجھیں یاد تِری مٹ جائیں گی
کچی نہیں ہے ڈور لگن گی جو ایسی کٹ جائے گی
کریں جشن ہزار، من مانے گا نہ ہار

تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی

فلمی گیت

تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی 
یہ تیری طرح مجھ سے تو شرما نہ سکے گی
تصویر تیری دل میرا ۔۔۔۔۔

میں بات کروں گا تو یہ خاموش رہے گی
سینے سے لگا لوں گا تو یہ کچھ نہ کہے گی
آرام وہ کیا دے گی، جو تڑپا نہ سکے گی
تصویر تیری دل میرا ۔۔۔۔۔

Thursday, 15 December 2016

سورج كرے سلام چندا کرے سلام

ملی نغمہ

سورج كرے سلام چندا کرے سلام
پیارے پاکستان سب تجھ پہ قربان
اللہ بات بنائے رکھے تُو ہم سب کا مان
سورج کرے سلام چندا کرے سلام

دل میں ایسی آ گ لگا دے ہم کندن بن جائیں
سدا تجھے جو دے ہریالی وہ ساون بن جائیں

حق کا پرچم لے کر اٹھو باطل سے ٹکراؤ: ترانہ

ملی ترانہ

حق کا پرچم لے کر اٹھو باطل سے ٹکراؤ
سر پر کفنی باندھ کے نکلو مارو یا مرجاؤ
مارو یا مر جاؤ، مارو یا مرجاؤ
حق کا پرچم لے کر اٹھو

عزت والو! غیرت مندو! طارق و خالد کے فرزندو
ظلم کی اونچی دیواروں کی اینٹ سے اینٹ بجاؤ

دشمنو تم نے اس قوم کو للکارا ہے

رزمیہ ترانہ

دشمنو! تم نے اس قوم کو للکارا ہے
کعبہ ہے جن کی جبینوں میں
قرآن ہے روشن سینوں میں
اللہ کا جن کو سہارا ہے
دشمنو! تم نے اس قوم کو للکارا ہے

ہم جب ہلالی پرچم کو لہرا کے قدم بڑھاتے ہیں

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران

ہدیۂ تبریک بر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

Friday, 28 February 2014

تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے

فلمی  گیت

تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسِیں ہے
نگاہوں میں تُو ہے یہ دل جھومتا ہے
نہ جانے محبت کی راہوں میں کیا ہے
جو تُو ہمسفر ہے تو کچھ غم نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسِیں ہے

آج جانے کی ضد نہ کرو

فلمی گیت

آج جانے کی ضِد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
آج جانے کی ضِد نہ کرو