قتل
ہر دل میں ایک قبرستان ہوتا ہے
اس قبرستان میں ٹوٹے ہوئے رشتوں
اور کھوئے ہوئے دوستوں کی قبریں موجود رہتی ہیں
کچھ مزاروں پر چراغ جلتے رہتے ہیں
جن میں خون جلتا اور یادیں دھواں دیتی رہتی ہیں
کچھ قبریں ویران رہتی ہیں
قتل
ہر دل میں ایک قبرستان ہوتا ہے
اس قبرستان میں ٹوٹے ہوئے رشتوں
اور کھوئے ہوئے دوستوں کی قبریں موجود رہتی ہیں
کچھ مزاروں پر چراغ جلتے رہتے ہیں
جن میں خون جلتا اور یادیں دھواں دیتی رہتی ہیں
کچھ قبریں ویران رہتی ہیں
سفر جاری رہے گا
جہالت چاہتے ہو
قدامت پُوجتے ہو
ہلاکت بانٹتے ہو
خدا کے نام پر تم
نہتے شہریوں میں قضا تقسیم کرتے ہو
کہیں یہ سوچ پاؤ
عالی
اس نے لاہوت پر پھونک ماری
اور ایک کہانی نے جنم لیا
اس ایک کہانی سے کئی کہانیاں زندگی میں داخل ہو گئیں
اس نے اپنی کالی گدڑی میں سے کردار برآمد کیے
اور تمام کہانیاں اسرار کے دھندلکے سے
گھومتا ہے مگر نہ جائے کہیں
وہ تہی دست مر نہ جائے کہیں
آؤ، راہوں سے خار چُنتے ہیں
سوختہ دل گُزر نہ جائے کہیں
چند گھڑیاں ہیں پیار کر لے دوست
بے وفا دل مُکر نہ جانے کہیں
کیا عجب کہانی ہے
زندگی بِتانی ہے
ذہن میں زمانے ہیں
کیسی بے زمانی ہے
سوچ کا سمندر ہے
خُشکی ہے نہ پانی ہے