Showing posts with label واصف اختر. Show all posts
Showing posts with label واصف اختر. Show all posts

Thursday, 18 April 2024

ہر دل میں ایک قبرستان ہوتا ہے

 قتل


ہر دل میں ایک قبرستان ہوتا ہے 

اس قبرستان میں ٹوٹے ہوئے رشتوں 

اور کھوئے ہوئے دوستوں کی قبریں موجود رہتی ہیں 

کچھ مزاروں پر چراغ جلتے رہتے ہیں 

جن میں خون جلتا اور یادیں دھواں دیتی رہتی ہیں 

کچھ قبریں ویران رہتی ہیں 

Saturday, 10 February 2024

خدا کے نام پر تم جہالت چاہتے ہو ہلاکت بانٹتے ہو

 سفر جاری رہے گا


جہالت چاہتے ہو

قدامت پُوجتے ہو

ہلاکت بانٹتے ہو

خدا کے نام پر تم

نہتے شہریوں میں قضا تقسیم کرتے ہو

کہیں یہ سوچ پاؤ

Monday, 18 December 2023

کہانی ختم ہو گئی مگر اسرار ختم نہیں ہوا

 عالی


اس نے لاہوت پر پھونک ماری

اور ایک کہانی نے جنم لیا 

اس ایک کہانی سے کئی کہانیاں زندگی میں داخل ہو گئیں 

اس نے اپنی کالی گدڑی میں سے کردار برآمد کیے 

اور تمام کہانیاں اسرار کے دھندلکے سے 

Sunday, 17 December 2023

گھومتا ہے مگر نہ جائے کہیں

 گھومتا ہے مگر نہ جائے کہیں

وہ تہی دست مر نہ جائے کہیں

آؤ، راہوں سے خار چُنتے ہیں

سوختہ دل گُزر نہ جائے کہیں

چند گھڑیاں ہیں پیار کر لے دوست

بے وفا دل مُکر نہ جانے کہیں

Saturday, 25 February 2023

کیا عجب کہانی ہے زندگی بتانی ہے

کیا عجب کہانی ہے

زندگی بِتانی ہے

ذہن میں زمانے ہیں

کیسی بے زمانی ہے

سوچ کا سمندر ہے

خُشکی ہے نہ پانی ہے