Showing posts with label نعیم اختر. Show all posts
Showing posts with label نعیم اختر. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

 سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

ہاں وہ پودا جو تِری چھاؤں میں کمہلایا تھا

رات کس نے مِری تنہائی کو مہکایا تھا

بوئے گل آئی تھی یا تیرا خیال آیا تھا

دیکھنے والے وہ منظر نہیں بھولے اب تک 

میں کبھی آپ کی آنکھوں میں نظر آیا تھا 

Thursday, 30 September 2021

صبا و گل کو مہ‌ و نجم کو دوانہ کیا

صبا و گل کو مہ‌ و نجم کو دِوانہ کیا 

مِری سرشت نے ہر رنگ کو نشانہ کیا 

وہی بہار، جسے تم بہار کہتے ہو 

سلوک ہم سے بہت اس نے باغیانہ کیا 

جہاں بھی تیز ہواؤں نے ساتھ چھوڑ دیا 

غبارِ راہ نے اپنا وہیں ٹھکانہ کیا

Tuesday, 28 September 2021

چند خوابوں کے عطا کر کے اجالے مجھ کو

 چند خوابوں کے عطا کر کے اجالے مجھ کو

کر دیا وقت نے دنیا کے حوالے مجھ کو 

جن کو سورج میری چوکھٹ سے ملا کرتا تھا

اب وہ خیرات میں دیتے ہیں اجالے مجھ کو 

میں ہوں کمزور،۔ مگر اتنی بھی نہیں

ٹوٹ جائیں نہ کہیں توڑنے والے مجھ کو

Tuesday, 6 July 2021

اسے ہر رخ سے توڑا جا رہا ہے

 اسے ہر رخ سے توڑا جا رہا  ہے

مگر آئینہ⌗ ہنستا جا رہا ہے

ہم اپنے آپ میں سورج ہیں پھر بھی

اندھیرا ہم میں ڈھونڈا جا رہا ہے

اسے ہم نے ذرا سا بھر دیا کیا

یہ ساغر🍷 تو چھلکتا جا رہا ہے 

Wednesday, 23 June 2021

نشاط آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا

 نشاطِ آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا

اسے بھی اک نہ اک دن حسرت ناکام لکھوں گا

مِِری روداد دل کی ابتدا تم انتہا بھی تم

تمہارا تذکرہ کیسے برائے نام لکھوں گا

قلم کی روشنائی جانے کیا الزام دے مجھ کو

میں اپنی صبح کے اوراق پر جب شام لکھوں گا