سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا
ہاں وہ پودا جو تِری چھاؤں میں کمہلایا تھا
رات کس نے مِری تنہائی کو مہکایا تھا
بوئے گل آئی تھی یا تیرا خیال آیا تھا
دیکھنے والے وہ منظر نہیں بھولے اب تک
میں کبھی آپ کی آنکھوں میں نظر آیا تھا
سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا
ہاں وہ پودا جو تِری چھاؤں میں کمہلایا تھا
رات کس نے مِری تنہائی کو مہکایا تھا
بوئے گل آئی تھی یا تیرا خیال آیا تھا
دیکھنے والے وہ منظر نہیں بھولے اب تک
میں کبھی آپ کی آنکھوں میں نظر آیا تھا
صبا و گل کو مہ و نجم کو دِوانہ کیا
مِری سرشت نے ہر رنگ کو نشانہ کیا
وہی بہار، جسے تم بہار کہتے ہو
سلوک ہم سے بہت اس نے باغیانہ کیا
جہاں بھی تیز ہواؤں نے ساتھ چھوڑ دیا
غبارِ راہ نے اپنا وہیں ٹھکانہ کیا
چند خوابوں کے عطا کر کے اجالے مجھ کو
کر دیا وقت نے دنیا کے حوالے مجھ کو
جن کو سورج میری چوکھٹ سے ملا کرتا تھا
اب وہ خیرات میں دیتے ہیں اجالے مجھ کو
میں ہوں کمزور،۔ مگر اتنی بھی نہیں
ٹوٹ جائیں نہ کہیں توڑنے والے مجھ کو
اسے ہر رخ سے توڑا جا رہا ہے
مگر آئینہ⌗ ہنستا جا رہا ہے
ہم اپنے آپ میں سورج ہیں پھر بھی
اندھیرا ہم میں ڈھونڈا جا رہا ہے
اسے ہم نے ذرا سا بھر دیا کیا
یہ ساغر🍷 تو چھلکتا جا رہا ہے
نشاطِ آرزو کا اور کیا انجام لکھوں گا
اسے بھی اک نہ اک دن حسرت ناکام لکھوں گا
مِِری روداد دل کی ابتدا تم انتہا بھی تم
تمہارا تذکرہ کیسے برائے نام لکھوں گا
قلم کی روشنائی جانے کیا الزام دے مجھ کو
میں اپنی صبح کے اوراق پر جب شام لکھوں گا