Showing posts with label میر درد. Show all posts
Showing posts with label میر درد. Show all posts

Thursday, 8 October 2020

دل کس کی چشم مست کا سرشار ہو گیا

دل کس کی چشمِ مست کا سرشار ہو گیا
کس کی نظر لگی، جو یہ بیمار ہو گیا
کچھ ہے خبر تجھے بھی کہ اٹھ اٹھ کے رات کو
عاشق تِری گلی میں کئی بار ہو گیا
بیٹھا تھا خضر آ کے مِرے پاس ایک دم
گھبرا کے اپنی زیست سے بیزار ہو گیا

Thursday, 19 January 2017

اپنے تئیں تو ہر گھڑی غم ہے الم ہے داغ ہے

اپنے تئیں تو ہر گھڑی غم ہے الم ہے داغ ہے
یاد کرے ہمیں کبھی، کب یہ تجھے دماغ ہے
جی کی خوشی نہیں گر و سبزہ و گل کے ہاتھ کچھ
دل ہو شگفتہ جس جگہ، وہ ہی چمن، ہے باغ ہے
کس کی یہ چشمِ مست نے بزم کو یوں چھکا دیا
مثلِ حباب سرنگوں شرم سے ہرا باغ ہے

کبھی خوش بھی کیا ہے دل کسی رند شرابی کا

کبھی خوش بھی کیا ہے دل! کسی رندِ شرابی کا
بھِڑا دے منہ سے منہ ساقی ہمارا اور گلابی کا
چھپے ہرگز نہ مثلِ بُو، وہ پردوں کے چھپاۓ سے
مزہ پڑتا ہے جس گل پیرہن کو بے حجابی کا
شرار و برق کی سی بھی نہیں یہاں فرصتِ ہستی
فلک نے ہم کو سونپا کام جو کچھ تھا شتابی کا

Thursday, 1 December 2016

دل کس کی چشم مست کا سرشار ہو گیا

 دل کِس کی چشمِ مست کا سرشار ہو گیا

کِس کی نظر لگی، جو یہ بیمار ہو گیا 

کچھ ہے خبر تجھے بھی، کہ اُٹھ اُٹھ کے رات کو 

عاشق تِری گلی میں کئی بار ہو گیا

بیٹھا تھا خضر آ کے مِرے پاس ایک دم 

گھبرا کے اپنی زیست سے بیزار ہو گیا 

Sunday, 12 June 2016

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے

ہے غلط، گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے
بے خبر تیغِ یار! کہتے ہیں 
باقی اس نیم جان میں کچھ ہے

تجھ ہی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھ ہی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
مِرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ
کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا
یگانہ ہے تُو آہ بے گانگی میں
کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا

Sunday, 27 March 2016

عشق ہر چند مری جان سدا کھاتا ہے

عشق ہر چند مِری جان سدا کھاتا ہے
پر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہے
آہ کب تک میں بکوں تیری بلا سنتی ہے
باتیں لوگوں کی جو کچھ دل مجھے سنواتا ہے
ہم نشیں پوچھ نہ اس شوخ کی خوبی مجھ سے
کیا کہوں تجھ سے غرض جی کو مِرے بھاتا ہے

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
پر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا
سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما
اس طرف کو کبھو گزر نہ کیا
کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز
سینہ کس وقت میں سپر نہ کیا

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تُو ہی آیا نظر، جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تُو نے آنکھ بھر دیکھا
نالہ، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا

انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا

انداز وہ ہی سمجھے مِرے دل کی آہ کا
زخمی جو کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا
زاہد کو ہم نے دیکھ لیا جوں نگیں بہ عکس
روشن ہوا ہے نام تو اس رُو سیاہ کا
ہر چند فسق میں تو ہزاروں ہیں لذتیں
لیکن عجب مزہ ہے فقط جی کی چاہ کا

Wednesday, 23 December 2015

اپنا تو نہیں یار میں کچھ یار ہوں تیرا

اپنا تو نہیں یار میں کچھ، یار ہوں تیرا
تُو جس کی طرف ہووے، طرفدار ہوں تیرا
کُڑھنے پہ مِرے، جی نہ کُڑھا، تیری بلا سے
اپنا تو نہیں غم مجھے، غم خوار ہوں تیرا
تُو چاہے نہ چاہے، مجھے کچھ کام نہیں ہے
آزاد ہوں اس سے بھی، گرفتار ہوں تیرا

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے، جو کچھ آرزو کریں
مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمایاں
ہم آئینہ کے سامنے جب آ کے ہُو کریں
تر دامنی پہ شیخ! ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

آرام سے کبھو بھی نہ یک بار سو گئے

آرام سے کبھو بھی نہ یکبار سو گئے 
ایسے ہمارے طالعِ بیدار سو گئے
خوابِ عدم سے چونکے تھے ہم تیرے واسطے 
آخر کو جاگ جاگ کے ناچار سو گئے
اٹھتی نہیں ہے خانۂ زنجیر سے صدا 
دیکھو تو، کیا سبھی یہ گرفتار سو گئے   

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

تہمتِ چند اپنے ذمے دھر چلے
جس ليے آئے تھے سو ہم کر چلے
زندگی ہے يا کوئی طوفاں ہے 
ہم تو اس جينے کے ہاتھوں مر چلے
کيا ہميں کام ان گلوں سے اے صبا
ايک دم آئے اِدھر، اُودھر چلے

Thursday, 6 November 2014

ہستی ہے جب تک ہم ہیں اسی اضطراب میں

ہستی ہے جب تک ہم ہیں اسی اضطراب میں
 جوں موج آ پھنسے ہیں عجب پیچ و تاب میں
 نے خانۂ خدا ہے نہ ہے یہ بتوں کا گھر
 رہتا ہے کون اس دلِ خانہ خراب میں
 آئینۂ عدم ہی میں ہستی ہے جلوہ گر
 ہے موج زن تمام یہ دریا سراب میں

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا​

قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا​
پر تِرے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا​
باوجود یہ کہ پر و بال نہ تھے آدمؑ کے​
وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا​
رات مجلس میں تِرے حسن کے شعلے کے حضور​
شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا​

Thursday, 13 December 2012

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا

مدرسہ، یا دَیر تھا، یا کعبہ، یا بُت خانہ تھا
ہم سبھی مہماں تھے یاں، اِک تُو ہی صاحبِ خانہ تھا 
وائے نادانی، کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سُنا افسانہ تھا
حیف! کہتے ہیں ہُوا گُلزار، تاراجِ خزاں
آشنا اپنا بھی واں اِک سبزۂ بے گانہ تھا 

Wednesday, 11 July 2012

روندے ہے نقش پا کی طرح خلق ياں مجھے

روندے ہے نقش پا کی طرح خلق ياں مجھے
اے عُمر رفتہ چھوڑ گئی تُو کہاں مجھے
اے گُل تُو رخت باندھ، اُٹھاؤں ميں آشياں
گُل چيں تُجھے نہ ديکھ سکے باغباں مجھے
رہتی ہے کوئی بن کيے ميرے تئيں تمام
جُوں شمع چھوڑنے کی نہيں يہ زباں مجھے