دل کس کی چشمِ مست کا سرشار ہو گیا
کس کی نظر لگی، جو یہ بیمار ہو گیا
کچھ ہے خبر تجھے بھی کہ اٹھ اٹھ کے رات کو
عاشق تِری گلی میں کئی بار ہو گیا
بیٹھا تھا خضر آ کے مِرے پاس ایک دم
گھبرا کے اپنی زیست سے بیزار ہو گیا
دل کِس کی چشمِ مست کا سرشار ہو گیا
کِس کی نظر لگی، جو یہ بیمار ہو گیا
کچھ ہے خبر تجھے بھی، کہ اُٹھ اُٹھ کے رات کو
عاشق تِری گلی میں کئی بار ہو گیا
بیٹھا تھا خضر آ کے مِرے پاس ایک دم
گھبرا کے اپنی زیست سے بیزار ہو گیا