Showing posts with label منیر جعفری. Show all posts
Showing posts with label منیر جعفری. Show all posts

Thursday, 23 April 2026

جنگ کس سے لڑوں اس زمیں سے

 جنگ کس سے لڑوں؟

اس زمیں سے

جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے

اس سپاہی سے؟

جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا 

صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے

Tuesday, 12 April 2022

وقت کی پیداوار جہاں کم ہوتی ہے

 وقت کی پیداوار جہاں کم ہوتی ہے

جینے کی رفتار وہاں کم ہوتی ہے

حبس کی شدت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے

پھولوں کی مہکار کہاں کم ہوتی ہے

خوف ذخیرہ کر لیتا ہوں قبل از قحط

گرمئ بازار یہاں کم ہوتی ہے

Monday, 4 April 2022

آنکھوں سے نیند جھاڑئیے ساماں اٹھائیے

 آنکھوں سے نیند جھاڑئیے ساماں اٹھائیے

اگلے سفر پہ خواب کے پیماں اٹھائیے

پھر اس کے بعد مل کے چراغوں کو آگ دیں

پہلے ہوا کے لمس کے ارماں اٹھائیے

جب تک یہ تارکولی سڑک جاگتی رہے

تب تک اکیلے بنچ کے احساں اٹھائیے

Sunday, 19 September 2021

اگلے جنم میں خدا سے گزارش کروں گا

 ٹاور آف سائیلنس


اگلے جنم میں

خدا سے گزارش کروں گا

وہ آواز کو طوائف بنا کر بھپجے

میری خواہش ہے

میرے قبیلے کے لوگ

Saturday, 4 September 2021

عصر کا پھول اگر عمر کے گلدان میں ہو

 عصر کا پھول اگر عمر کے گل دان میں ہو

سوکھ جانے کا زمانہ بھی مِرے دھیان میں ہو

جس کی چیزوں کو تو اک بار اگر رد کر دے

اس دکاندار پہ واجب ہے کہ نقصان میں ہو

دیوسائی کی زمینوں سے اٹھے میرا خمیر

اور مِرا اگلا جنم وادئ مکران میں ہو

Saturday, 10 April 2021

اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا

 اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا

میں نے اک دن کی تسلی کو سہارا دیا تھا

میری تہذیب کا معیار وراثت نہیں ہے

مجھ کو اجداد نے ورثے میں خسارا دیا تھا

کتنی آنکھیں مِرے کمرے میں اتر آئی تھیں

میں نے دیوار پہ کھڑکی کو اجارا دیا تھا

Wednesday, 17 February 2021

اک ماہر ورتاوی جیسے کھانا بانٹتی ہے

 اک ماہر ورتاوی جیسے کھانا بانٹتی ہے

تیری محبت ایسے دانہ دانہ بانٹتی ہے

صبحوں کے کشکول میں جس نے سورج ڈالے ہیں

راتوں کو تاریکی کا نذرانہ بانٹتی ہے

تنہائی ماں جائی ہماری اس پر لاکھ سلام

ویرانی کا بوجھ اٹھا کر شانہ بانٹتی ہے

Tuesday, 12 January 2021

کتنے گنجل پڑ جاتے ہیں ایک گرہ سلجھانے میں

 کتنے گُنجل پڑ جاتے ہیں ایک گِرہ سُلجھانے میں

عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے ریت پہ پھول بنانے میں

تخت پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں مار دئیے ہیں کتنے لوگ

قصر کے اونچے دو برجوں پر ایک عَلم لہرانے میں

دھرتی کے قدموں پر میری پیشانی کا شَملہ ہے

اور کہاں تک جھکنا ہو گا اپنا بوجھ اٹھانے میں؟

Sunday, 10 January 2021

دشت بخشا ہے تو پھر پیاس کی وحشت دی جائے

 دشت بخشا ہے تو پھر پیاس کی وحشت دی جائے

آنکھ دی ہے تو مجھے اشک کی حسرت دی جائے

ضبط دیواروں سے بھر بھر کے گرا جاتا ہے

گھر کی ہر چیز کو رونے کی اجازت دی جائے

میرے ہاتھوں میں اگر خواب کی ریکھائیں ہیں

مجھ کو خیرات میں آنکھوں کی بشارت دی جائے

Saturday, 9 January 2021

بچھڑا ہوا موجود ہے

 بچھڑا ہوا موجود ہے


جانے والے تو گیا کب ہے

مِرے دامن میں

تیرے خوش رنگ دلاسوں کا دھواں جاگتا ہے

میرے جوتوں میں تِرے پاؤں پڑے ہیں اب تک

آج بھی میں انھیں دھو دھو کے پیا کرتا ہوں

تیری خوشبو پہ کبھی گرد نہیں جمنے دی

Wednesday, 6 January 2021

میں دریا ہونے سے پہلے پتھر تھا

 میں دریا ہونے سے پہلے پتھر تھا

اک درویش نے مجھ کو ٹھوکر ماری تھی

تُو جو آئے تو اسے آنکھ میں بھر کر دیکھوں

یہ جو اک نیند مِرے پاس پڑی رہتی ہے

اتنا معلوم ہے اس جسم پہ پھول آئے تھے

اس سے آگے کی کہانی پہ خزاں طاری ہے

Tuesday, 5 January 2021

قدیم پیڑ نئی خاک سے اگایا گیا

 قدیم پیڑ نئی خاک سے اگایا گیا

پرانا عشق نئے جسم سے کمایا گیا

مجھے فصیل کی جرأت کو داد دینا پڑی

گھڑی کا بوجھ کلائی پہ جب اٹھایا گیا

ہماری نیند سفینے سے اٹھ گئی لیکن

تمہارے خواب کا لنگر نہیں اٹھایا گیا

Sunday, 3 January 2021

رات رہتی نہیں اس لیے دھیان میں

 رات رہتی نہیں اس لیے دھیان میں

نیند رکھی نہیں میں نے امکان میں

آنکھ سے جھَڑ گئی ہیں شناسائیاں

یا خلل پڑ گیا تیری پہچان میں

یاد آئی تو محسوس خود کو کیا

جیسے آ جاتی ہے جان سی جان میں

Friday, 11 December 2020

زندگی وینٹی لیٹر پہ رکھا ہوا اک دلاسا نہیں

 جلدباز کو دُہائی


زندگی وینٹی لیٹر پہ رکھا ہوا اک دلاسا نہیں

زندگی خون ہے

جس کی رفتار سے جسم کے سلسلوں کا

تسلسل بندھا ہے

سو آہستہ چل