جنگ کس سے لڑوں؟
اس زمیں سے
جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے
اس سپاہی سے؟
جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا
صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے
جنگ کس سے لڑوں؟
اس زمیں سے
جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے
اس سپاہی سے؟
جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا
صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے
وقت کی پیداوار جہاں کم ہوتی ہے
جینے کی رفتار وہاں کم ہوتی ہے
حبس کی شدت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے
پھولوں کی مہکار کہاں کم ہوتی ہے
خوف ذخیرہ کر لیتا ہوں قبل از قحط
گرمئ بازار یہاں کم ہوتی ہے
آنکھوں سے نیند جھاڑئیے ساماں اٹھائیے
اگلے سفر پہ خواب کے پیماں اٹھائیے
پھر اس کے بعد مل کے چراغوں کو آگ دیں
پہلے ہوا کے لمس کے ارماں اٹھائیے
جب تک یہ تارکولی سڑک جاگتی رہے
تب تک اکیلے بنچ کے احساں اٹھائیے
ٹاور آف سائیلنس
اگلے جنم میں
خدا سے گزارش کروں گا
وہ آواز کو طوائف بنا کر بھپجے
میری خواہش ہے
میرے قبیلے کے لوگ
عصر کا پھول اگر عمر کے گل دان میں ہو
سوکھ جانے کا زمانہ بھی مِرے دھیان میں ہو
جس کی چیزوں کو تو اک بار اگر رد کر دے
اس دکاندار پہ واجب ہے کہ نقصان میں ہو
دیوسائی کی زمینوں سے اٹھے میرا خمیر
اور مِرا اگلا جنم وادئ مکران میں ہو
اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا
میں نے اک دن کی تسلی کو سہارا دیا تھا
میری تہذیب کا معیار وراثت نہیں ہے
مجھ کو اجداد نے ورثے میں خسارا دیا تھا
کتنی آنکھیں مِرے کمرے میں اتر آئی تھیں
میں نے دیوار پہ کھڑکی کو اجارا دیا تھا
اک ماہر ورتاوی جیسے کھانا بانٹتی ہے
تیری محبت ایسے دانہ دانہ بانٹتی ہے
صبحوں کے کشکول میں جس نے سورج ڈالے ہیں
راتوں کو تاریکی کا نذرانہ بانٹتی ہے
تنہائی ماں جائی ہماری اس پر لاکھ سلام
ویرانی کا بوجھ اٹھا کر شانہ بانٹتی ہے
کتنے گُنجل پڑ جاتے ہیں ایک گِرہ سُلجھانے میں
عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے ریت پہ پھول بنانے میں
تخت پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں مار دئیے ہیں کتنے لوگ
قصر کے اونچے دو برجوں پر ایک عَلم لہرانے میں
دھرتی کے قدموں پر میری پیشانی کا شَملہ ہے
اور کہاں تک جھکنا ہو گا اپنا بوجھ اٹھانے میں؟
دشت بخشا ہے تو پھر پیاس کی وحشت دی جائے
آنکھ دی ہے تو مجھے اشک کی حسرت دی جائے
ضبط دیواروں سے بھر بھر کے گرا جاتا ہے
گھر کی ہر چیز کو رونے کی اجازت دی جائے
میرے ہاتھوں میں اگر خواب کی ریکھائیں ہیں
مجھ کو خیرات میں آنکھوں کی بشارت دی جائے
بچھڑا ہوا موجود ہے
جانے والے تو گیا کب ہے
مِرے دامن میں
تیرے خوش رنگ دلاسوں کا دھواں جاگتا ہے
میرے جوتوں میں تِرے پاؤں پڑے ہیں اب تک
آج بھی میں انھیں دھو دھو کے پیا کرتا ہوں
تیری خوشبو پہ کبھی گرد نہیں جمنے دی
میں دریا ہونے سے پہلے پتھر تھا
اک درویش نے مجھ کو ٹھوکر ماری تھی
تُو جو آئے تو اسے آنکھ میں بھر کر دیکھوں
یہ جو اک نیند مِرے پاس پڑی رہتی ہے
اتنا معلوم ہے اس جسم پہ پھول آئے تھے
اس سے آگے کی کہانی پہ خزاں طاری ہے
قدیم پیڑ نئی خاک سے اگایا گیا
پرانا عشق نئے جسم سے کمایا گیا
مجھے فصیل کی جرأت کو داد دینا پڑی
گھڑی کا بوجھ کلائی پہ جب اٹھایا گیا
ہماری نیند سفینے سے اٹھ گئی لیکن
تمہارے خواب کا لنگر نہیں اٹھایا گیا
رات رہتی نہیں اس لیے دھیان میں
نیند رکھی نہیں میں نے امکان میں
آنکھ سے جھَڑ گئی ہیں شناسائیاں
یا خلل پڑ گیا تیری پہچان میں
یاد آئی تو محسوس خود کو کیا
جیسے آ جاتی ہے جان سی جان میں
جلدباز کو دُہائی
زندگی وینٹی لیٹر پہ رکھا ہوا اک دلاسا نہیں
زندگی خون ہے
جس کی رفتار سے جسم کے سلسلوں کا
تسلسل بندھا ہے
سو آہستہ چل