Friday, 11 December 2020

زندگی وینٹی لیٹر پہ رکھا ہوا اک دلاسا نہیں

 جلدباز کو دُہائی


زندگی وینٹی لیٹر پہ رکھا ہوا اک دلاسا نہیں

زندگی خون ہے

جس کی رفتار سے جسم کے سلسلوں کا

تسلسل بندھا ہے

سو آہستہ چل


میری سانسوں کے دھاگے

تناؤ کی تندی کے عادی نہیں

اپنی رفتار سے عجلتوں کا تجسس ہٹا

زندگی تیری انگلی پکڑ کر نہیں بھاگ سکتی

مرے ہم نما

ہم ضرورت کے سائے میں ٹھہریں

پڑاؤ کے پھولوں سے دامن بھریں

اور پھر سے نئی روشنی کا تحمل

رویوں کی بجھتی ہوئی چمنیوں میں بھریں

اس طرف آ

مرے خانۂ خواب کی چلمنیں

دھیرے دھیرے ہٹا

میرے سینے کو رستہ بنا

تیرے پیروں کی تاثیر میں

لمس کا شہد ہے

میرے ہونٹوں کے چٹیل پہاڑوں میں چل

اور وادی کی بنیاد رکھ

تیرا چھوڑا ہوا وقت پورا نہیں آ رہا ہے مجھے

تھوڑا آہستہ چل

میری سرسبزگی کا تماشا نہ کر

مجھ پہ اپنی توجہ کا خرچہ بڑھا

میں سکونت کا سامان ہوں

مجھ کو چھو کر گزرنے سے پرہیز کر


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment