Showing posts with label ناہید شاہد. Show all posts
Showing posts with label ناہید شاہد. Show all posts

Wednesday, 2 September 2026

بھٹکیں ترے مدار میں گردش نہ کر سکیں

 بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں

ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں

ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں

آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں

پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں

ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں

Saturday, 25 July 2026

تیری دھن میں کدھر آ گئے کیا کریں

 کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں

ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں

یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی

کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں

بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا

اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں

Thursday, 18 September 2025

طلب سے پہلے میرا کاسہ بھر دیتا ہے

 طلب سے پہلے میرا کاسہ بھر دیتا ہے

میرے سارے کام وہ خود ہی کر دیتا ہے

غارِ حرا سے غارِ ثور تلک کا وقفہ

آنکھ کی پتلی کو کیا کیا منظر دیتا ہے

کرتا ہے آزاد وہ دنیا کو ہر ڈر سے

اور بس ایک خدا کا سب کو ڈر دیتا ہے

Wednesday, 11 June 2025

لب ساحل ہیں یا گرداب میں ہیں

 لبِ ساحل ہیں یا گرداب میں ہیں

بہت موسم ہے ہم اک خواب میں ہیں

فصیلوں پر صدائیں اگ رہی ہیں

زبانیں گمشدہ محراب میں ہیں

یہی لمحہ ہے، مجھ کو فتح کر لو

مِرے سارے سپاہی خواب میں ہیں

Saturday, 7 June 2025

دئیے کو پھر بجھانا چاہتی ہے

دئیے کو پھر بجھانا چاہتی ہے

ہوا کوئی بہانہ چاہتی ہے

سُجھانا چاہتا ہے راہ تارا

مگر شب بیت جانا چاہتی ہے

نئی شاخیں شجر پر کب اُگیں گی

کہ چڑیا آشیانہ چاہتی ہے

Friday, 6 June 2025

دل کی دہلیز پہ آ رنج کی تصویر میں آ

 دل کی دہلیز پہ آ، رنج کی تصویر میں آ

خواب! آنکھوں سے نکل، اب کسی تعبیر میں آ

پھر اسیری نے پکارا ہے، تجھے مانگتی ہے

پھر وفا کہتی ہے؛ آ حلقۂ زنجیر میں آ

پھول شادابئ موسم کا ہُنر بھول گئے

تھک بھی جا بادِ صبا! کوچۂ تعزیر میں آ