بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں
ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں
ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں
آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں
پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں
ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں
بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں
ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں
ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں
آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں
پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں
ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں
کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں
ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں
یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی
کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں
بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا
اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں
طلب سے پہلے میرا کاسہ بھر دیتا ہے
میرے سارے کام وہ خود ہی کر دیتا ہے
غارِ حرا سے غارِ ثور تلک کا وقفہ
آنکھ کی پتلی کو کیا کیا منظر دیتا ہے
کرتا ہے آزاد وہ دنیا کو ہر ڈر سے
اور بس ایک خدا کا سب کو ڈر دیتا ہے
لبِ ساحل ہیں یا گرداب میں ہیں
بہت موسم ہے ہم اک خواب میں ہیں
فصیلوں پر صدائیں اگ رہی ہیں
زبانیں گمشدہ محراب میں ہیں
یہی لمحہ ہے، مجھ کو فتح کر لو
مِرے سارے سپاہی خواب میں ہیں
دئیے کو پھر بجھانا چاہتی ہے
ہوا کوئی بہانہ چاہتی ہے
سُجھانا چاہتا ہے راہ تارا
مگر شب بیت جانا چاہتی ہے
نئی شاخیں شجر پر کب اُگیں گی
کہ چڑیا آشیانہ چاہتی ہے
دل کی دہلیز پہ آ، رنج کی تصویر میں آ
خواب! آنکھوں سے نکل، اب کسی تعبیر میں آ
پھر اسیری نے پکارا ہے، تجھے مانگتی ہے
پھر وفا کہتی ہے؛ آ حلقۂ زنجیر میں آ
پھول شادابئ موسم کا ہُنر بھول گئے
تھک بھی جا بادِ صبا! کوچۂ تعزیر میں آ