Showing posts with label عشرت ظفر. Show all posts
Showing posts with label عشرت ظفر. Show all posts

Tuesday, 26 April 2022

میں بھی روشن ہوں جمال رخ جاناں میں کہیں

 میں بھی روشن ہوں جمال رخ جاناں میں کہیں

خاک پروانہ بھی ہے شعلۂ عریاں میں کہیں

کسی پیکر میں بھی پہچان نہیں ہے اس کی

کیا سراغ اس کا ملے دشت و گلستاں میں کہیں

ہجر کے داغ میں تبدیل ہوا لمحۂ وصل

تھی کمی کوئی مِرے شوق فراواں میں کہیں

Monday, 14 March 2022

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں

 یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں

سمندر ہوں، سمندر کو مقابل چاہتا ہوں میں

وہ اک لمحہ جو تیرے قرب کی خوشبو سے ہے روشن

اب اس لمحے کو پابند سلاسل چاہتا ہوں میں

وہ چنگاری جو ہے مشاق فن شعلہ سازی میں

اسے روشن تہہ خاکستر دل چاہتا ہوں میں

Wednesday, 12 January 2022

ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤں

 ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤں

ممکن ہے کہ موجوں کے ماتھے پہ ابھر جاؤں

تپتے ہوئے لمحوں کو سیراب تو کر جاؤں

اک موجِ صدا بن کر صحرا میں بکھر جاؤں

ہر سنگ ہے اک شیشہ ہر شیشہ ہے اک پتھر

اے شہرِ طلسم! آخر ٹھہروں کہ گزر جاؤں

Monday, 27 December 2021

ہر ایک عہد میں جو سنگسار ہوتا رہا

 ہر ایک عہد میں جو سنگسار ہوتا رہا

لہو لہو میں اسی حرف کے بدن میں ہوں

زبان کیوں نہیں بنتی ہے ہمنوا دل کی

یہ شخص کون ہے میں کس کے پیرہن میں ہوں

مِرے لہو سے ہی اس نے سپر کا کام لیا

اسے خبر تھی کہ میں طاق اپنے فن میں ہوں

Sunday, 26 December 2021

فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے

 فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے

لہو کے بحر میں بھی کچھ صدف ہیں نیلے سے

ابھی تو قافلۂ بادِ سبز راہ میں ہے

اسی لیے تو ہیں اشجار دشت پیلے سے

جو میرے ساتھ ہے صدیوں سے مثلِ عکسِ بہار

خبر نہیں کہ ہے وہ شخص کس قبیلے سے

Thursday, 26 August 2021

مجھے کچھ اور بھی تپتا سلگتا چھوڑ جاتا ہے

 مجھے کچھ اور بھی تپتا سلگتا چھوڑ جاتا ہے

سحاب اکثر میرے سینے پہ دریا چھوڑ جاتا ہے

وہی اک رائیگاں لمحہ کہ میں جس کا شناور ہوں

نگاہوں میں مِری شہرِ تماشا چھوڑ جاتا ہے

گزرتا ہے جس آئینے سے بھی موسم شراروں کا

چمن کو ساتھ لے جاتا ہے صحرا چھوڑ جاتا ہے