میں بھی روشن ہوں جمال رخ جاناں میں کہیں
خاک پروانہ بھی ہے شعلۂ عریاں میں کہیں
کسی پیکر میں بھی پہچان نہیں ہے اس کی
کیا سراغ اس کا ملے دشت و گلستاں میں کہیں
ہجر کے داغ میں تبدیل ہوا لمحۂ وصل
تھی کمی کوئی مِرے شوق فراواں میں کہیں
میں بھی روشن ہوں جمال رخ جاناں میں کہیں
خاک پروانہ بھی ہے شعلۂ عریاں میں کہیں
کسی پیکر میں بھی پہچان نہیں ہے اس کی
کیا سراغ اس کا ملے دشت و گلستاں میں کہیں
ہجر کے داغ میں تبدیل ہوا لمحۂ وصل
تھی کمی کوئی مِرے شوق فراواں میں کہیں
یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں
سمندر ہوں، سمندر کو مقابل چاہتا ہوں میں
وہ اک لمحہ جو تیرے قرب کی خوشبو سے ہے روشن
اب اس لمحے کو پابند سلاسل چاہتا ہوں میں
وہ چنگاری جو ہے مشاق فن شعلہ سازی میں
اسے روشن تہہ خاکستر دل چاہتا ہوں میں
ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤں
ممکن ہے کہ موجوں کے ماتھے پہ ابھر جاؤں
تپتے ہوئے لمحوں کو سیراب تو کر جاؤں
اک موجِ صدا بن کر صحرا میں بکھر جاؤں
ہر سنگ ہے اک شیشہ ہر شیشہ ہے اک پتھر
اے شہرِ طلسم! آخر ٹھہروں کہ گزر جاؤں
ہر ایک عہد میں جو سنگسار ہوتا رہا
لہو لہو میں اسی حرف کے بدن میں ہوں
زبان کیوں نہیں بنتی ہے ہمنوا دل کی
یہ شخص کون ہے میں کس کے پیرہن میں ہوں
مِرے لہو سے ہی اس نے سپر کا کام لیا
اسے خبر تھی کہ میں طاق اپنے فن میں ہوں
فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے
لہو کے بحر میں بھی کچھ صدف ہیں نیلے سے
ابھی تو قافلۂ بادِ سبز راہ میں ہے
اسی لیے تو ہیں اشجار دشت پیلے سے
جو میرے ساتھ ہے صدیوں سے مثلِ عکسِ بہار
خبر نہیں کہ ہے وہ شخص کس قبیلے سے
مجھے کچھ اور بھی تپتا سلگتا چھوڑ جاتا ہے
سحاب اکثر میرے سینے پہ دریا چھوڑ جاتا ہے
وہی اک رائیگاں لمحہ کہ میں جس کا شناور ہوں
نگاہوں میں مِری شہرِ تماشا چھوڑ جاتا ہے
گزرتا ہے جس آئینے سے بھی موسم شراروں کا
چمن کو ساتھ لے جاتا ہے صحرا چھوڑ جاتا ہے