Showing posts with label ساجد مہروی. Show all posts
Showing posts with label ساجد مہروی. Show all posts

Saturday, 6 January 2024

زندگی یاد مدینہ میں گزاری ساری

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زندگی یادِ مدینہ میں گزاری ساری

عمر بھر کی ہے کمائی یہ ہماری ساری

دیکھ کر خُلدِ بریں دل نے کہا یہ فوراً

کس نے تصویر مدینے کی اتاری ساری

ایسا اللہ نے سلطانﷺ بنایا تجھ کو

رب کی مخلوق ہوئی تیری بھکاری ساری

Monday, 9 August 2021

تو نے میخانہ نگاہوں میں چھپا رکھا ہے

 تُو نے مےخانہ نگاہوں میں چھپا رکھا ہے

ہوش والوں کو بھی دیوانہ بنا رکھا ہے

ناز کیسے نہ کروں بندہ نوازی پہ تیری

مجھ نا چیز کو جب اپنا بنا رکھا ہے

ہر قدم سجدے بہ صد شوق کیا کرتے ہیں

ہم نے کعبہ تیرے کوچے میں بنا رکھا ہے

Wednesday, 19 August 2020

نگاہیں چرا کر او جانے والے مناسب نہیں یہ ستم چلتے چلتے

نگاہیں چرا کر او جانے والے! مناسب نہیں یہ ستم چلتے چلتے
ذرا اپنی اٹھتی جوانی کا صدقہ، ادھر بھی نگاہ کرم چلتے چلتے
چلے آۓ تھے آج انکی گلی سے یہی سوچ کر پھر نہ جائیں گے، لیکن
جو پیچھے سے اس بیوفا نے پکارا، وہیں رک گئے بس قدم چلتے چلتے
رقیبوں سے ملنا ہمیں بھول جانا، کہاں کا یہ انصاف ہے او ستمگر
کرو یاد وہ دن کہ ہم سے وفا کی کھائی تھی تو نے قسم چلتے چلتے

چشم ساقی نے یہ کیا کھیل رچا رکھا ہے

چشمِ ساقی نے یہ کیا کھیل رچا رکھا ہے
کوئی زاہد کوئی مے خوار بنا رکھا ہے
وہ تصور میں میرے آئیں تو کیسے آئیں
دلِ بے تاب نے اک شور مچا رکھا ہے
جو پھنسا، پھر نہ کبھی اس نے رہائی مانگی
تیری زلفوں نے عجب جال بچھا رکھا ہے

Tuesday, 18 August 2020

دل میرا چرا کر وہ کیوں آنکھ چرا بیٹھے

دل میرا چرا کر وہ، کیوں آنکھ چرا بیٹھے
اب ہوش ہمیں آیا ،جب ہوش گنوا بیٹھے
سودا ہے بہت اچھا، قیمت ہے بہت سستی
ہم اک بُتِ کافر پر، ایمان لُٹا بیٹھے
معلوم نہ تھا وہ بھی، نکلے گا رقیب اپنا
ناصح کو تیری ایک دن تصویر دکھا بیٹھے

دل تڑپتا ہے نظریں پریشان ہیں

دل تڑپتا ہے نظریں پریشان ہیں، اک حسین اجنبی ہمسفر کے لیے
آنکھوں آنکھوں میں جانے وہ کیا کہہ گیا، چین اب تک نہیں لمحہ بھر کے لیے
اے میرے ہمنوا! اے میرے ہم نفس، آج اتنا تڑپ ٹوٹ جائے قفس
آتشِ سوز سے پھونک دے تیلیاں، کب تلک روے گا بال و پر کے لیے
اے دلِ مضطرب سرد آہیں نہ بھر، ضبط سے کام لے انکا شکوہ نہ کر
وہ نہیں ہیں تیرے حال سے بے خبر، یاد آتی ہے ان کو خبر کے لیے

دل کے لگنے کو دل لگی سمجھے

دل کے لگنے کو دل لگی سمجھے
رو دئیے ہم تو وہ ہنسی سمجھے
ایسے رہبر سے راہزن اچھا
جو اندھیرے کو روشنی سمجھے
اس کو کیا واسطہ مسرت سے
تیرے غم کو جو زندگی سمجھے

پیرہن تار تار کرتے ہیں

پیرہن تار تار کرتے ہیں
اہتمام بہار کرتے ہیں
پہلے پہلے وہ پیار کرتے ہیں
بعد میں بے قرار کرتے ہیں
ہم نہیں جانتے قضا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتے ہیں

Monday, 17 August 2020

آرام اک پل نہیں اے جاں تیرے بغیر

آرام اک پل نہیں اے جاں! تیرے بغیر
آ جا کہ زندگی ہے پریشاں تیرے بغیر
ساغر خاموش، جام تہی، مے کدہ اداس
سُونی پڑی ہے محفلِ رنداں تیرے بغیر
اس دل میں جل سکی نہ کوئی شمعِ آرزو
اس گھر میں ہو سکا نہ چراغاں تیرے بغیر

جتنا ہمارے دل کو تمہارا ہے غم پسند

جتنا ہمارے دل کو تمہارا ہے غم پسند
ہو گا کسی کو کوئی زمانے میں کم پسند
دنیائے بت کدہ،۔ نہ فضائے حرم پسند
تیری گلی ہے مجھ کو خدا کی قسم پسند
میری تو کائنات فقط تیرے دم سے ہے
ہے کائنات میں مجھے اک تیرا دم پسند

Sunday, 16 August 2020

جو رخ پہ خاک ملی تیرے آستانے کی

جو رخ پہ خاک مَلی تیرے آستانے کی
رہی نہ تاب جہاں کو نظر ملانے کی
اٹھائیں آپ جو زحمت یہاں پہ آنے کی
زمین عرش ہو میرے غریب خانے کی
یہ کس کی مدھ بھری نظروں نے جام چھلکائے
شراب 🍷 اڑ گئی ساری شراب خانے کی

ذرے سے مہر قطرے سے دریا بنا دیا

ذرے سے مہر، قطرے سے دریا بنا دیا
تیرے کرم نے کیا سے مجھے کیا بنا دیا
گر جان دی تجھے تو، یہ تیری ہی تھی عطا
شرمندگی تو یہ ہے تجھے میں نے کیا دیا
تُو نے کِیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر

فیض ملتا نہیں حق سے کبھی نسبت کے بغیر
بات بنتی نہیں مرشد سے عقیدت کے بغیر
کوئی کتنا ہی کرے فیض نظر کا دعویٰ
نامکمل ہے مگر شیخ کی صحبت کے بغیر
زاہداں زہد سے حق تک ہے پہنچنا مشکل
راستہ طے نہیں ہوتا یہ محبت کے بغیر

Monday, 23 December 2013

کہنا غلط غلط تو چھپانا صحیح صحیح

کہنا غلط غلط تو چھپانا صحیح صحیح
قاصد کہا جو اس نے بتانا صحیح صحیح
یہ صبح صبح چہرے کی رنگت اڑی ہوئی
کل رات تم کہاں تھے بتانا صحیح صحیح
دل لے کے میرا ہاتھ میں کہتے ہیں مجھ سے وہ
کیا لو گے اس کا دام، بتانا صحیح صحیح