تُو نے مےخانہ نگاہوں میں چھپا رکھا ہے
ہوش والوں کو بھی دیوانہ بنا رکھا ہے
ناز کیسے نہ کروں بندہ نوازی پہ تیری
مجھ نا چیز کو جب اپنا بنا رکھا ہے
ہر قدم سجدے بہ صد شوق کیا کرتے ہیں
ہم نے کعبہ تیرے کوچے میں بنا رکھا ہے
اِے میرے پردہ نشین تیری توجہ کے نثار
میں نے دنیا سے تیرا عشق چھپا رکھا ہے
جو بھی غم ملتا ہے سینے سے لگا لیتا ہوں
میں نے ہر درد کو تقدیر بِنا رکھا ہے
بخش کر آپ نے احساس کی دولت مجھ کو
یہ بھی کیا کم ہے انسان بنا رکھا ہے
رخ پہ لہراتی ہیں کبھی شانوں سے الجھ پڑتی ہیں
تُو نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے
تیری مخمور نگاہوں سے ہے رونق ساری
ورنہ ساقی تیرے مے خانے میں کیا رکھا ہے
میری نظروں میں کوئی کیسے جچے اے ساجد
نسبتِ یار نے مغرور بنا رکھا ہے
ساجد مہروی
No comments:
Post a Comment