Showing posts with label شوق قدوائی. Show all posts
Showing posts with label شوق قدوائی. Show all posts

Tuesday, 22 February 2022

مرا حق مان کر بن تو مرا حاجت روا ہونا

 مِرا حق مان کر بن تو مِرا حاجت روا ہونا

کہ میں مانے ہوئے ہوں اے خدا تیرا خدا ہونا

تجھے سمجھے ہوئے میں ہمیشہ سے ہمیشہ تک

نہ جانوں ابتداء ہونا،۔ نہ مانوں انتہا ہونا

خرد کو عجز زیبا ہے ادب سے دم بخود ہو کر

کہ تیری معرفت تک غیر ممکن ہے رسا ہونا

Sunday, 12 November 2017

جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا

جفا پہ شکر کا امیدوار کیوں آیا 
مِری وفا کا اسے اعتبار کیوں آیا 
یہ دل کی بات ہی منہ سے ادا نہیں ہوتی 
میں کیا کہوں کہ یہاں بار بار کیوں آیا 
خیالِ پرسشِ محشر سے وہ ہوا مغموم 
نظر کے سامنے میرا مزار کیوں آیا 

لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے

لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے 
سب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہے 
کتنا ہی وہ جھڑکیں میں کہے جاتا ہوں اپنی 
غیرت مِری اب کچھ خلل انداز نہیں ہے 
پہونچوں گا ضرور آج میں اس شوخ کے گھر میں 
دیوار تو نیچی ہے جو در باز نہیں ہے 

فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیر

فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیر 
مانوں نہ حشر میں تِرے منہ پر کہے بغیر 
دیکھو یہ رنگ رخ کا شگوفہ کہ میرا عشق 
ظاہر ہوا ہے کہنے سے بڑھ کر کہے بغیر 
منہ دیکھتا ہی رہ گیا کہنے کو جب گیا 
پلٹا میں حالت دل مضطر کہے بغیر 

Thursday, 27 April 2017

ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیا

ابرو ہے کعبہ، آج سے یہ نام رکھ دیا
ہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیا
نشے میں جا گرا جو میں مسجد میں سر کے بَل
زاہد نے مجھ پہ سجدے کا الزام رکھ دیا
جھجکا وہ خوف کھا کے تو میں نے تڑپ کے خود
برچھی کی نوک پر دلِ ناکام رکھ دیا

سواد خط ترے خط میں تری تحریر کا سا تھا

سوادِ خط تِرے خط میں تِری تحریر کا سا تھا
مگر بگڑا ہوا میرے خطِ تقدیر کا سا تھا
تِری تصویر وہ جو ہے شباب آنے سے پہلے کی
فلک پر چودھویں کا چاند اسی تصویر کا سا تھا
کبھی دیکھا نہ تھا پہچاں سکتا کیا میں گیسو کو
کچھ اس کے سَر پہ ہاں لٹکا ہوا زنجیر کا سا تھا

میں جو رویا خلق کی نظروں سے بادل گر گیا

میں جو رویا خلق کی نظروں سے بادل گر گیا
اس کی ساری آبرو پر آج پانی پھر گیا
دل میں وہ مجھ کو برا سمجھا مگر سمجھا تو کچھ
ہوں رسا اتنا کہ میں نظروں سے تا خاطر گیا
کس قدر بیدل ہوا میں جا کے اس بدخو کے پاس
اس طرح کھویا کہ گویا کچھ بغل سے گر گیا

Friday, 13 May 2016

میں غیر ہوں دل سے یہ کھٹک جائے تو اچھا

میں غیر ہوں دل سے یہ کھٹک جائے تو اچھا
دل اس کا مِرے دل سے اٹک جائے تو اچھا
عاشق پہ تِرے اب سرِ شوریدہ گراں ہے
لا کر تِرے در پر جو پٹک جائے تو اچھا
اس کے دہنِ تنگ سے دل تنگ بہت ہے
غنچے سے یہ کہہ دو کہ چٹک جائے تو اچھا

بیدل ہوئے جاتے ہیں یہ ہے حال ہمارا

بے دل ہوئے جاتے ہیں یہ ہے حال ہمارا
دل پر انہیں دعویٰ ہے کہ ہے مال ہمارا
بلبل سے لڑا دیتے ہیں گل مجھ کو دکھا کر
دیتے ہیں وہ دھوکا کہ یہ ہے گال ہمارا
وہ لڑ کے قیامت سے مِری قبر پہ بولے
ہم اٹھنے نہ دیں گے یہ ہے پامال ہمارا

تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا

تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھا
مانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھا
پھرتا ہوں میں بیدل مِرا دل کیوں نہیں دیتے
کیا تم سے جوا کھیل کے میں ہار گیا تھا
سودے کو نہ پوچھ آیا تھا تو ناز سے جس دن
گیسو ترا اس دن مِرے سر مار گیا تھا

دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھا

دل کھوٹا ہے ہم کو اس سے راز عشق نہ کہنا تھا
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اتنا سمجھے رہنا تھا
کیوں ہنستے ہو میں جو برہنہ آج جنوں کے ہاتھوں ہوں
کچھ دن گزرے میں نے بھی بھی رنگ لباس اک پہنا تھا
نزع کے وقت آئے ہو تم اب پوچھ رہے ہو کیا مجھ سے
حالت میری سب کہہ گزری جو کچھ تم سے کہنا تھا