Showing posts with label کامران اسیر. Show all posts
Showing posts with label کامران اسیر. Show all posts

Tuesday, 22 March 2022

ہاتھ میں‌ جیسے بزرگوں کے چھڑی سجتی ہے

 ہاتھ میں‌ جیسے بزرگوں کے چھڑی سجتی ہے

میری تنہائی، مِرے ساتھ کھڑی سجتی ہے

میں پیادہ ہوں مِری رائے نہ پوچھی جائے

شاہزادی سے کہو ضد پہ اڑی سجتی ہے

بڑھ کے تھاما تو سہارے پہ یقیں آیا اسے

وہ جو کہتا تھا کلائی پہ گھڑی سجتی ہے

Sunday, 6 March 2022

آیتیں بھیجی گئیں نام و نسب رکھا گیا

آیتیں بھیجی گئیں نام و نسب رکھا گیا

لا کہ سینے میں غمِ شاہِ عرب رکھا گیا

وہ فلک تھا اسے معراج کیا تھا رب نے

یہ زمیں تھی سو یہاں ماہِ رجب رکھا گیا

زندگی کاٹ کے پھینکی گئی زنجیروں سے

فاتحہ پڑھ کے پرندوں کا لقب رکھا گیا

Friday, 4 March 2022

میں اس سے اس کو ہی مانگ لایا تو میرا اس میں کمال بھی ہے

 میں اس سے اس کو ہی مانگ لایا تو میرا اس میں کمال بھی ہے

وہ کہہ رہا تھا؛ مجھے بتاؤ، کوئی تمہارا سوال بھی ہے؟

کوئی تو بولے تماشے والے اسے تماشہ سمجھ رہے ہیں

وہ آئینے سے یہ کہہ رہا ہے کوئی تمہاری مثال بھی ہے

مجھے تو میرے قبیلے والوں نے وہ کہانی سنائی جس میں

کہیں کہیں‌ پر عروج لیکن کہیں کہیں پر زوال بھی ہے

Thursday, 3 March 2022

چراغ شب ہوں کہ صورت میں تخلیہ ہوں میں

 چراغِ شب ہوں کہ صورت میں تخلیہ ہوں میں

مجھے بھی دیکھ، حقیقت کا آئینہ ہوں میں

مِرے حصار میں تجھ کو غروب ہونا ہے

تمہاری آخری سرحد پہ حاشیہ ہوں میں

ہر ایک سمت تعاقب میں غرق ہے میرے

مجھے بھی ڈھونڈئیے منظر کا دائرہ ہوں میں

Monday, 24 January 2022

جب بھی اطراف میں پھیلا ہوا ڈر بند کیا

 جب بھی اطراف میں پھیلا ہوا ڈر بند کیا 

خواب میں جست بھری نیند کا در بند کیا

پہلے ترتیب دیا میں نے یہاں اک منظر 

اور پھر دیکھنے والوں کو نظر بند کیا 

ڈوب جانی تھی یہ دنیا کسی تاریکی میں 

میرے گریے نے چراغوں کو سحر بند کیا