ہاتھ میں جیسے بزرگوں کے چھڑی سجتی ہے
میری تنہائی، مِرے ساتھ کھڑی سجتی ہے
میں پیادہ ہوں مِری رائے نہ پوچھی جائے
شاہزادی سے کہو ضد پہ اڑی سجتی ہے
بڑھ کے تھاما تو سہارے پہ یقیں آیا اسے
وہ جو کہتا تھا کلائی پہ گھڑی سجتی ہے
ہاتھ میں جیسے بزرگوں کے چھڑی سجتی ہے
میری تنہائی، مِرے ساتھ کھڑی سجتی ہے
میں پیادہ ہوں مِری رائے نہ پوچھی جائے
شاہزادی سے کہو ضد پہ اڑی سجتی ہے
بڑھ کے تھاما تو سہارے پہ یقیں آیا اسے
وہ جو کہتا تھا کلائی پہ گھڑی سجتی ہے
آیتیں بھیجی گئیں نام و نسب رکھا گیا
لا کہ سینے میں غمِ شاہِ عرب رکھا گیا
وہ فلک تھا اسے معراج کیا تھا رب نے
یہ زمیں تھی سو یہاں ماہِ رجب رکھا گیا
زندگی کاٹ کے پھینکی گئی زنجیروں سے
فاتحہ پڑھ کے پرندوں کا لقب رکھا گیا
میں اس سے اس کو ہی مانگ لایا تو میرا اس میں کمال بھی ہے
وہ کہہ رہا تھا؛ مجھے بتاؤ، کوئی تمہارا سوال بھی ہے؟
کوئی تو بولے تماشے والے اسے تماشہ سمجھ رہے ہیں
وہ آئینے سے یہ کہہ رہا ہے کوئی تمہاری مثال بھی ہے
مجھے تو میرے قبیلے والوں نے وہ کہانی سنائی جس میں
کہیں کہیں پر عروج لیکن کہیں کہیں پر زوال بھی ہے
چراغِ شب ہوں کہ صورت میں تخلیہ ہوں میں
مجھے بھی دیکھ، حقیقت کا آئینہ ہوں میں
مِرے حصار میں تجھ کو غروب ہونا ہے
تمہاری آخری سرحد پہ حاشیہ ہوں میں
ہر ایک سمت تعاقب میں غرق ہے میرے
مجھے بھی ڈھونڈئیے منظر کا دائرہ ہوں میں
جب بھی اطراف میں پھیلا ہوا ڈر بند کیا
خواب میں جست بھری نیند کا در بند کیا
پہلے ترتیب دیا میں نے یہاں اک منظر
اور پھر دیکھنے والوں کو نظر بند کیا
ڈوب جانی تھی یہ دنیا کسی تاریکی میں
میرے گریے نے چراغوں کو سحر بند کیا