آیتیں بھیجی گئیں نام و نسب رکھا گیا
لا کہ سینے میں غمِ شاہِ عرب رکھا گیا
وہ فلک تھا اسے معراج کیا تھا رب نے
یہ زمیں تھی سو یہاں ماہِ رجب رکھا گیا
زندگی کاٹ کے پھینکی گئی زنجیروں سے
فاتحہ پڑھ کے پرندوں کا لقب رکھا گیا
منتیں جسم ہوئیں روح بنی شب کی تھکن
دیپ جلتا ہوا محراب میں جب رکھا گیا
من و سلوا پہ کہاں تک کوئی جی سکتا تھا
جسم بوئے گئے جینے کا سبب رکھا گیا
چھپ گئے بارہ دری میں نظر آنے والے
جب بھی دریاؤں کی دہلیز پہ لب رکھا گیا
طاق راتوں میں بسر کرتے رہے اپنی حیات
جو میسر تھا کسی اور ہی شب رکھا گیا
کامران اسیر
No comments:
Post a Comment