تمہیں پہلی نظر میں
دیکھ کر
ایسے لگا جیسے
تمہیں ملنے سے پہلے ہی
مجھے تم سے
محبت تھی
تمہیں پہلی نظر میں
دیکھ کر
ایسے لگا جیسے
تمہیں ملنے سے پہلے ہی
مجھے تم سے
محبت تھی
وہ اکثر مجھ سے کہتا ہے
تم بے حد شور مچاتی ہو
جب پیار سے مجھے بلاوٴ گے
تب دوڑ کہ میں تو آوٴں گی
تب پائل میری چھنکے گی
پائل کا شور تو ہو گا ہی
بے سکوں دل نگر ہے تو یوں ہی سہی
وہ جفا گر اگر ہے تو یوں ہی سہی
دل شکن اس کی ہر اک ادا پہ اگر
یہ مِری آنکھ تر ہے تو یوں ہی سہی
یہ قدم میرا جس جا پہ رکنے لگا
اس کا وہ سنگِ در ہے تو یوں ہی سہی
جدائیوں میں لذت نہ رفاقتوں میں ہے
بس اک درد کا عالم محبتوں میں ہے
ملی ہمیں جو بے چینیاں تو یہ جانا
مزہ فقط دلِ ناداں کی وحشتوں میں ہے
کروں میں تا بہ سحر چاند سے تیری باتیں
یہی تو مشغلہ میری فراغتوں میں ہے
یہ مانا ہے فلک ہے تُو
یہ مانا ہے زمیں ہوں میں
مگر یہ تو بتا مجھ کو
کبھی کیا تُو نے سوچا ہے
فلک ہو کے زمیں پر یُوں
جھُکا رہتا ہے آخر کیوں؟
سمن شاہ
مختصر نظم
یہ برفانی حسیں موسم
لگے جیسے
فرشتوں نے پروں سے
گرد جھاڑی ہو
سمن شاہ
ہے بس تم سے کہنا ہے
ہمیں تم چاہتے تو ہو
مگر کچھ اس طرح چاہو
کہ ہر لمحہ محبت کا
ہو جیسے آخری لمحہ
ہے بس تم سے کہنا ہے
سمن شاہ
نظم
تِری صبحوں کے سب جھنجھٹ
تِری شاموں کی سب فکریں
بکھیڑے زندگانی کے
الجھ کر جن میں تم جاناں
مجھے بھی بھول بیٹھے ہو
چلو دیکھیں
مِرے شہر خموشاں میں
کوئی آواز آئی ہے
یہاں تو سب ہی سوئے ہیں
نجانے کون جاگا ہے
کوئی پگلہ
اٹھو جاگو
نجانے کب سے سوئے ہو
تمہاری نیند نے تم کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑا
کوئی دستک
کوئی آہٹ جگاتی ہی نہیں تم کو
نشہ غفلت کا کیسا ہے