Showing posts with label راقم دہلوی. Show all posts
Showing posts with label راقم دہلوی. Show all posts

Friday, 11 September 2020

غضب ہے ادا چشم جادو اثر میں

غضب ہے ادا چشم جادو اثر میں
کہ دل پس گیا بس نظر ہی نظر میں
شب وعدہ ساتھ ان کو لائیں گے گھر میں
ہم آنکھیں بجھاتے ہوئے رہ گزر میں
مریں بھی تو جا کر اسی سر زمیں پر
ملیں خاک میں تو اسی رہ گزر میں

Thursday, 10 September 2020

کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

کسی سے دل لگانا ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
مرض بیٹھے بٹھائے مول لینا اس کو کہتے ہیں
غم فرقت ہے کھانے کو شب غم ہے تڑپنے کو
ملا ہے ہم کو وہ جینا کہ مرنا اس کو کہتے ہیں
بہت مغرور ہیں سرو و صنوبر قد موزوں پر
دکھائیں گے کسی قامت کو زیبا اس کو کہتے ہیں

Wednesday, 9 September 2020

قیامت میں تکلف ہو تکلف بھی قیامت کا

قیامت میں تکلف ہو، تکلف بھی قیامت کا 
اگر ہم بھی ملا دیں اپنا کچھ ہنگامۂ فرقت کا
آ جاؤ، پھرتے چلتے کبھی غم کدہ میں تم
آنکھوں سے ہم بھی دیکھ لیں آنا بہار کا
غیروں سے آپ پوچھیں اپنی ادا کی شوخی
دیوانہ بن رہا ہوں میں تو ادا ادا کا

Tuesday, 8 September 2020

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے 
خوں سے آلودہ نہ ہو دامن بچاتے جائیے 
حسن زیبا لاکھ نظروں سے بچاتے جائیے 
اور کھُلتا جائے گا، جتنا چھپاتے جائیے 
بات اچھی آپ نے سیکھی ہے خوش ہو گا رقیب 
وعدے کرتے جائیے، سوگند کھاتے جائیے 

Saturday, 5 September 2020

غضب ہے ادا چشم جادو اثر میں

غضب ہے ادا چشمِ جادو اثر میں 
کہ دل پس گیا بس نظر ہی نظر میں 
شب وعدہ ساتھ ان کو لائیں گے گھر میں 
ہم آنکھیں بجھاتے ہوئے رہگزر میں 
مریں بھی تو جا کر اسی سرزمیں پر 
ملیں خاک میں تو اسی رہگزر میں 

آج کیوں نالہ مرا آتش فشاں ہوتا نہیں

آج کیوں نالہ مِرا آتش فشاں ہوتا نہیں
شکوہ سنج دوست فریاد زباں ہوتا نہیں 
نامہ بر سے مدعا شاید بیاں ہوتا نہیں 
جو جوابِ یار مجھ تک ارمغاں ہوتا نہیں
کیا ہوا نامہرباں ہے، مہرباں ہو جائے گا 
مجھ کو بے مہری کا اس پر بدگماں ہوتا نہیں 

خطا کی اے دل ناداں خطا کی

خطا کی اے دلِ ناداں خطا کی 
تمنا کی تو کس نا آشنا کی ؟
خدا کی شان یہ قسمت حنا کی 
بنی مشاطہ اس کے دست و پا کی
بتا کر شوخیاں اس کو ادا کی 
ڈبوئی ہم نے قسمت مُدعا کی 

Thursday, 10 December 2015

خوب نکلے جستجوئے یار میں

خوب نکلے جستجوئے یار میں
خار دامن میں ہے دامن خار میں
کیا کریں گے جا کے ہم گلزار میں
دل لگا ہے اپنا کوئی یار میں
کیا دھرا ہے نرگسِ بیمار میں
مستیاں ہیں اور چشمِ یار میں

بے بلائے مرے مہمان چلے آتے ہیں

بے بلائے مِرے مہمان چلے آتے ہیں
مجھ پہ کرتے ہوئے احسان چلے آتے ہیں
وہ کیے بال پریشان چلے آتے ہیں
اور کھوتے مِرے اوسان چلے آتے ہیں
جانشیں قیس کے ہم ہوتے ہیں، سودا دیکھو
اپنے گہر کو کیے ویران چلے آتے ہیں

آرزو وصل کی اس دن دل مضطر نکلے

آرزو وصل کی اوس دن دلِ مضطر نکلے
سینۂ یار سے گر کینۂ کافر نکلے
ہم ازل سے برا لے کے مقدر نکلے
ہات دولت پہ جہاں ڈالا ہے پتھر نکلے
بوند یہی حوض میں باقی رہے کہنا کم ظرف
ہم اگر تشنۂ صہبا سوئے کوثر نکلے

وہ تو آتے نہیں اے دل تجھے ظن کس کا ہے

وہ تو آتے نہیں اے دل تجھے ظن کس کا ہے
بے سبب شوقِ ہم آغوشئ تن کس کا ہے
یاد کس کی ہے تجھے، کون یہاں آتا ہے
نغمۂ شوق فزا مرغِ چمن کس کا ہے
ایک دو دن کا تماشا ہے گلستانِ جہاں
کون رہتا ہے یہاں اور وطن کس کا ہے