غضب ہے ادا چشمِ جادو اثر میں
کہ دل پس گیا بس نظر ہی نظر میں
شب وعدہ ساتھ ان کو لائیں گے گھر میں
ہم آنکھیں بجھاتے ہوئے رہگزر میں
مریں بھی تو جا کر اسی سرزمیں پر
مِرے قتل کو آئے اس سادگی سے
چھری ہاتھ میں ہے نہ خنجر کمر میں
بھلایا غمِ دل نے شوقِ تماشا
کہ اب آنکھیں کھلتی ہے دوپہر میں
گراں بار جتنے ہوئے ہم جفا سے
سبک ہی رہے اتنے اس کی نظر میں
کسی کو وہ ماریں، کسی کو جلائیں
خدائی سی کرنے لگے اب تو گھر میں
موئے پر بھی کچھ چین پایا نہ ہم نے
رہی جان اٹکی اسی عشوہ گر میں
تھکے ہم تو بس التجا کرتے کرتے
کٹی عمر سن سن کے شام و سحر میں
نمک بھی چھڑک رکھو پیکاں پہ تھوڑا
کہ لذت بڑھے اور زخمِ جگر میں
ہم ایسے ہوئے دیکھ کر محوِ حیرت
خبر ہی نہیں کون آیا ہے گھر میں
غمِ دل نشانی ہے فرقت کی راقم
اسے رکھ چلو ان کی دیوار و در میں
راقم دہلوی
No comments:
Post a Comment