Saturday, 5 September 2020

پکڑے گا کون سانپ سپیروں میں دم نہیں

پکڑے گا کون سانپ سپیروں میں دم نہیں
بے غیرتی کا زہر لٹیروں میں کم نہیں
غمخوار کوئی ہم کو اے پروردگار دے
اب آسماں سے کوئی مسیحا اتار دے
وہ حکمران دے جو غضب سے تِرے ڈریں
نادار پر ستم کی نہ جو انتہا کریں
موسٰی کوئی تو بھیج دے فرعون کے لیے
مظلوم سہہ کے ظلم یہاں کب تلک جئے
تھانوں میں بے قصور کی چھترول عام ہے
دہقان پر وڈیرے کا جیسے غلام ہے
تنگ آ چکے ہیں ظلم سے مہنگائی سے عوام
حکام نے کیا ہے نہ کوئی کریں گے کام
ہر محکمے میں صرف کرپشن کا راج ہے
معتوب صرف وہ ہے جو سادہ مزاج ہے
ایماندار لوگوں کی گرچہ کمی نہیں
اوپر سے نیچے آتی برائی تھمی نہیں
جو احتساب ذات سے گزرے وہ رہنما
آئے تو قوم کو بھی دکھائے وہ نیک راہ
پرویز، ذوالفقار اور طارق سلیم سے
پولیس افسران اگرچہ ہمیں ملے
کچھ ہونگے چند اور بھی کچھ اس میں شک نہیں
ان کی بھی دوڑ ایسے وڈیروں تلک نہیں
دیتے ہیں ڈاکووں کو لٹیروں کو جو پناہ
تجھ سے مگر چھپا نہیں یا رب کوئی گناہ
کیا تیرے پاس ان کے لئے کچھ سزا نہیں
کیا ہے خطا کے صبر کی کوئی جزا نہیں
یہ ملک اب حوالے تِرے ہے مِرے خدا
کوئی فرشتہ بھیج کے تو ہی اسے چلا

ریاض الرحمٰن ساغر

No comments:

Post a Comment