پکڑے گا کون سانپ سپیروں میں دم نہیں
بے غیرتی کا زہر لٹیروں میں کم نہیں
غمخوار کوئی ہم کو اے پروردگار دے
اب آسماں سے کوئی مسیحا اتار دے
وہ حکمران دے جو غضب سے تِرے ڈریں
موسٰی کوئی تو بھیج دے فرعون کے لیے
مظلوم سہہ کے ظلم یہاں کب تلک جئے
تھانوں میں بے قصور کی چھترول عام ہے
دہقان پر وڈیرے کا جیسے غلام ہے
تنگ آ چکے ہیں ظلم سے مہنگائی سے عوام
حکام نے کیا ہے نہ کوئی کریں گے کام
ہر محکمے میں صرف کرپشن کا راج ہے
معتوب صرف وہ ہے جو سادہ مزاج ہے
ایماندار لوگوں کی گرچہ کمی نہیں
اوپر سے نیچے آتی برائی تھمی نہیں
جو احتساب ذات سے گزرے وہ رہنما
آئے تو قوم کو بھی دکھائے وہ نیک راہ
پرویز، ذوالفقار اور طارق سلیم سے
پولیس افسران اگرچہ ہمیں ملے
کچھ ہونگے چند اور بھی کچھ اس میں شک نہیں
ان کی بھی دوڑ ایسے وڈیروں تلک نہیں
دیتے ہیں ڈاکووں کو لٹیروں کو جو پناہ
تجھ سے مگر چھپا نہیں یا رب کوئی گناہ
کیا تیرے پاس ان کے لئے کچھ سزا نہیں
کیا ہے خطا کے صبر کی کوئی جزا نہیں
یہ ملک اب حوالے تِرے ہے مِرے خدا
کوئی فرشتہ بھیج کے تو ہی اسے چلا
ریاض الرحمٰن ساغر
No comments:
Post a Comment