کر کے ان کا خیال یک طرفہ
ہو نہ غم سے نڈھال یک طرفہ
ان کے کانوں پہ جوں نہیں رینگی
کیوں ہے تم کو ملال یک طرفہ
تالی بجتی ہے دونوں ہاتھوں سے
اب چلیں گے نہ چال یک طرفہ
کر کے ان کا خیال یک طرفہ
ہو نہ غم سے نڈھال یک طرفہ
ان کے کانوں پہ جوں نہیں رینگی
کیوں ہے تم کو ملال یک طرفہ
تالی بجتی ہے دونوں ہاتھوں سے
اب چلیں گے نہ چال یک طرفہ
ہمیں اب تو اپنا نگر کاٹتا ہے
یہ سناٹا شام و سحر کاٹتا ہے
کسی کی زباں بھی تو شیریں نہیں ہے
کہ جیسے یہاں ہر بشر کاٹتا ہے
درندوں کو چھوڑیں کہ اب آدمی ہی
یہاں ایک دوجے کا سر کاٹتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کملی والےؐ کو دل میں بسا لیجیے
لطف جنت کا دنیا میں پا لیجیے
تم اندھیرے میں بھی روشنی پاؤ گے
خاکِ طیبہ کو سُرمہ بنا لیجیے
سگ مدینے کا کوئی ملے گر کہیں
بڑھ کے سینے سے اس کو لگا لیجیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ملتی ہے مقدر سے رسائی تِرےﷺ درکی
اے کاش کہ مل جائے گدائی ترے درکی
خالق بھی ہے مالک بھی ہے تُو سارے جہاں کا
مخلوق نے ہے آس لگائی ترےﷺ در کی
جو کچھ بھی ملا مجھ کو اسی در سے ملا ہے
میں کیوں نہ کروں مدح سرائی ترے در کی
شہیدوں اور غازیوں کو سلام
وطن کے لیے جو لڑے صبح و شام
انہی سرفروشوں کو میرا سلام
وطن کے لیے جو ہوئے ہیں شہید
فرشتے کریں فخر سے ان کی دید
انہوں نے ہے پائی حیاتِ دوام
جگ میں ظلم روا تھا، تم خاموش رہے
کتنا جبر ہوا تھا، تم خاموش رہے
جموں و کشمیر کے بے بس لوگوں کا
فلسطین اور شام کے بے کس بچوں کا
نا حق خون بہا تھا، تم خاموش رہے
مظلوموں کی آہیں عرش پہ جا پہنچیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو چل پڑے تو نہ سوچو مسافتیں کیسی
اگر جنوں ہے تو لینی اجازتیں کیسی
سر کے بل ہم تو مدینہ کو جائیں گے فاروق
حضورﷺ نے جو بلایا تو حجّتیں کیسی
مدینہ شہر ہے ایسا کہ اس میں جا کر ہی
پتہ چلے گا ملی ہیں لطافتیں کیسی