Showing posts with label نسیم مخموری. Show all posts
Showing posts with label نسیم مخموری. Show all posts

Tuesday, 30 April 2024

گلاب کی رت سے جا کے پوچھو تھے پر مرے پاس تتلیوں کے

 گُلاب کی رُت سے جا کے پُوچھو تھے پر مِرے پاس تِتلیوں کے

مگر وہ چشمِ زدن کہ توبہ پہاڑ ٹُوٹے تھے بدلیوں کے

وہ سارا الزام سر پہ لے کر خُود اپنی قاتل ٹھہر چکی تھی

ہزار ڈھونڈو مِری قبا پر، نشاں مِلیں گے نہ اُنگلیوں کے

قُصور کس کا تھا کون جانے، نہ ہم ہی سمجھے، نہ تم پہ ظاہر

کسی طلب کا وجود ہیں ہم، شگاف کہتے ہیں پسلیوں کے

Sunday, 3 March 2024

آ اے خیال پھر مری آنکھوں کو خواب دے

 آ اے خیال پھر مِری آنکھوں کو خواب دے

جس پر سکوں نثار ہو، وہ اضطراب دے

میں تجھ کو کچھ نہ کہہ کے پشیمان تو نہیں

صُورت نہ پڑھ سکے جو اسے کیا کتاب دے

خاموشیوں کی تہہ میں سمندر ہے موجزن

اللہ! وسعتوں کو مِری کچھ حجاب دے

Monday, 12 February 2024

چپکے چپکے تنہائی میں کس کے لیے اب روتی ہوں

 چپکے چپکے تنہائی میں کس کے لیے اب روتی ہوں

گِیلی مٹی کے دامن میں فصل گُلوں کی بوتی ہوں

کیسا دھڑکا دل کو لگا ہے، اب کیا ہونے والا ہے

مٹی کے خالی دِیپک میں بُجھتی ہوئی ایک جَوتی ہے

کب سے بُھول چکی ہوں خُود کو،اب تو مِرا یہ عالم ہے

جب وہ جگائے اُٹھ جاتی ہوں، جب وہ چاہے سوتی ہوں

Saturday, 6 January 2024

وہ ابر رحمت وہ ماہ کامل ازل سے وہ نور ہیں سحر کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ ابرِ رحمت وہ ماہِ کامل ازل سے وہ نُور ہیں سحر کا

محبتوں کے عظیم پیکر، وہی اُجالا ہیں اپنے گھر کا

امین ایسا، حبیب ایسا، ہُوا جو مہماں خُدا کے گھر کا

خُدا نے خُود اپنی رحمتوں کو لباس پہنا دیا بشر کا

ہماری منزل، ہمارا رہبر، ہماری کشتی، ہمارا ساحل

وہی مسافت، وہی مسافر، وہ حرفِ آخر ہے اس سفر کا

Wednesday, 3 January 2024

میں نے سب چہروں کو دیکھا سب پر تیرا نام لکھا ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں نے سب چہروں کو دیکھا سب پر تیرا نام لکھا ہے

تُو نے لاکھ چُھپایا خُود کو، پھر بھی تجھ کو دیکھ لیا ہے

تُو ہی تو اس رنگ برنگی پیاری دُنیا کا ہے خالق

لاکھ سمندر لکھ نہ سکیں گے وصف تِرے، تُو اتنا بڑا ہے

مالک بھی اس دل کا تُو ہے، تُو ہی ہے اس دل کا مکیں

تنہائی کے صحراؤں میں جب دیکھو تُو ساتھ کھڑا ہے

Sunday, 18 April 2021

ٹوٹ گئے اشکوں کے موتی اب یہ دامن خالی ہے

 ٹوٹ گئے اشکوں کے موتی اب یہ دامن خالی ہے

کھو گئیں قدریں انسانوں کی اور پیراہن خالی ہے

ہاتھ میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، راہ میں کوئی ساتھ نہیں

تنہائی کی برکھا برسی، وصل کا آنگن خالی ہے

کس موسم کی بات کروں میں، کس رُت کو شاداب کہوں

ہر موسم کا وعدہ جھوٹا، شام سہاگن خالی ہے