گُلاب کی رُت سے جا کے پُوچھو تھے پر مِرے پاس تِتلیوں کے
مگر وہ چشمِ زدن کہ توبہ پہاڑ ٹُوٹے تھے بدلیوں کے
وہ سارا الزام سر پہ لے کر خُود اپنی قاتل ٹھہر چکی تھی
ہزار ڈھونڈو مِری قبا پر، نشاں مِلیں گے نہ اُنگلیوں کے
قُصور کس کا تھا کون جانے، نہ ہم ہی سمجھے، نہ تم پہ ظاہر
کسی طلب کا وجود ہیں ہم، شگاف کہتے ہیں پسلیوں کے