زعفرانی غزل
بستر پہ بغل میں مِرے تکیہ نہیں ہوتا
بیگم سے اگر میں کبھی رُوٹھا نہیں ہوتا
اب گھرکی یہ حالت ہے بتاؤں تجھے میں کیا
"گر دیگچہ ہوتا ہے تو چمچہ نہیں ہوتا”
بیگم سے پِٹا کرتے سبھی روز یقیناً
دُنیا میں اگر کوئی بھی جُھوٹا نہیں ہوتا
زعفرانی غزل
بستر پہ بغل میں مِرے تکیہ نہیں ہوتا
بیگم سے اگر میں کبھی رُوٹھا نہیں ہوتا
اب گھرکی یہ حالت ہے بتاؤں تجھے میں کیا
"گر دیگچہ ہوتا ہے تو چمچہ نہیں ہوتا”
بیگم سے پِٹا کرتے سبھی روز یقیناً
دُنیا میں اگر کوئی بھی جُھوٹا نہیں ہوتا
نمکین غزل
گالیاں دے کر گئی مجھ کو جٹھانی آپ کی
ساتھ بیگم بھی کھڑی تھی درمیانی آپ کی
کوئی افسر ہے تو کوئی حکمراں ہیں دیکھئے
ہم بھی گنجے ہیں، خدارا مہربانی آپ کی
مجھ کو رکھ لو گھر میں اپنے چین سے تو پھر جیو
میں حفاظت میں رکھوں گا یہ جوانی آپ کی
جہاں میں جس پہ کرم اعتبار کرتے ہیں
وہ تیر دل کے مِرے آر پار کرتے ہیں
یہ جان جس پہ بھی ہنس کے نثار کرتے ہیں
وہ دشمنوں میں ہمیں ہی شمار کرتے ہیں
ستم زمانے کے سہتے ہیں آہ بھرتے ہوئے
ہم آنکھ ہی کو سدا اشک بار کرتے ہیں
نمکین کلام
گر پارٹی میں کوئی کنوارہ گیا تو ٹیکس
کافر ادا سے کوئی بھی مارا گیا تو ٹیکس
کالج کے گیٹ پہ کبھی نہ بیٹھے کوئی بھی
تکتے حسینوں کو جو وہ پکڑا گیا تو ٹیکس
ہر کال پر بھی پہلے سے لاگو ہے یاں پہ اور
ری ڈائلنگ پہ پھر سے لگایا گیا ہے ٹیکس
کیسے گزرے مِرے حالات مجھے ہوش نہیں
ہائے وہ ہجر کے دن رات مجھے ہوش نہیں
کس نے چھوڑا تھا مجھے تنہا تڑپنے کے لیے
درد میں کس نے دیا ساتھ، مجھے ہوش نہیں
کوئی نوکر، کوئی مالک، کوئی ہے پیر فقير
کتنے انسانوں کے طبقات مجھے ہوش نہیں
عجیب بات ہے دل ضابطے میں کوئی نہیں
ابھی نہ عشق ہوا، حادثے میں کوئی نہیں
ورق ورق پہ ہو تحریر صرف تُو ہی تُو
کتاب دل کے ابھی حاشیے میں کوئی نہیں
بجھے بجھے سے ستارے، نہ چاندنی نہ چراغ
شبِ فراق تِرے رت جگے میں کوئی نہیں
یہ کیوں پوچھتے ہو کہ کیا ہے محبت
محبت خدا ہے،۔ خدا ہے محبت
جو دشمن ہے جاں کا اسے جان سمجھے
زمانے سے بالکل جدا ہے محبت
جگا دے نصیبوں کو جس کو ملے یہ
جو مل نہ سکے، تو سزا ہے محبت