Showing posts with label کرم بزدار. Show all posts
Showing posts with label کرم بزدار. Show all posts

Sunday, 31 December 2023

بستر پہ بغل میں مرے تکیہ نہیں ہوتا

زعفرانی غزل


بستر پہ بغل میں مِرے تکیہ نہیں ہوتا

بیگم سے اگر میں کبھی رُوٹھا نہیں ہوتا

اب گھرکی یہ حالت ہے بتاؤں تجھے میں کیا

"گر دیگچہ ہوتا ہے تو چمچہ نہیں ہوتا”

بیگم سے پِٹا کرتے سبھی روز یقیناً

دُنیا میں اگر کوئی بھی جُھوٹا نہیں ہوتا

Saturday, 26 February 2022

گالیاں دے کر گئی مجھ کو جٹھانی آپ کی

 نمکین غزل


گالیاں دے کر گئی مجھ کو جٹھانی آپ کی

ساتھ بیگم بھی کھڑی تھی درمیانی آپ کی

کوئی افسر ہے تو کوئی حکمراں ہیں دیکھئے

ہم بھی گنجے ہیں، خدارا مہربانی آپ کی

مجھ کو رکھ لو گھر میں اپنے چین سے تو پھر جیو

میں حفاظت میں رکھوں گا یہ جوانی آپ کی

Wednesday, 23 February 2022

جہاں میں جس پہ کرم اعتبار کرتے ہیں

 جہاں میں جس پہ کرم اعتبار کرتے ہیں

وہ تیر دل کے مِرے آر پار کرتے ہیں

یہ جان جس پہ بھی ہنس کے نثار کرتے ہیں

وہ دشمنوں میں ہمیں ہی شمار کرتے ہیں

ستم زمانے کے سہتے ہیں آہ بھرتے ہوئے

ہم آنکھ ہی کو سدا اشک بار کرتے ہیں

Thursday, 2 December 2021

گر پارٹی میں کوئی کنوارہ گیا تو ٹیکس

 نمکین کلام


گر پارٹی میں کوئی کنوارہ گیا تو ٹیکس

کافر ادا سے کوئی بھی مارا گیا تو ٹیکس

کالج کے گیٹ پہ کبھی نہ بیٹھے کوئی بھی

تکتے حسینوں کو جو وہ پکڑا گیا تو ٹیکس

ہر کال پر بھی پہلے سے لاگو ہے یاں پہ اور

ری ڈائلنگ پہ پھر سے لگایا گیا ہے ٹیکس

Monday, 29 November 2021

کیسے گزرے مرے حالات مجھے ہوش نہیں

 کیسے گزرے مِرے حالات مجھے ہوش نہیں

ہائے وہ ہجر کے دن رات مجھے ہوش نہیں

کس نے چھوڑا تھا مجھے تنہا تڑپنے کے لیے

درد میں کس نے دیا ساتھ، مجھے ہوش نہیں

کوئی نوکر، کوئی مالک، کوئی ہے پیر فقير

کتنے انسانوں کے طبقات مجھے ہوش نہیں

Thursday, 25 November 2021

عجیب بات ہے دل ضابطے میں کوئی نہیں

 عجیب بات ہے دل ضابطے میں کوئی نہیں

ابھی نہ عشق ہوا، حادثے میں کوئی نہیں

ورق ورق پہ ہو تحریر صرف تُو ہی تُو

کتاب دل کے ابھی حاشیے میں کوئی نہیں

بجھے بجھے سے ستارے، نہ چاندنی نہ چراغ

شبِ فراق تِرے رت جگے میں کوئی نہیں

Friday, 17 September 2021

یہ کیوں پوچھتے ہو کہ کیا ہے محبت

 یہ کیوں پوچھتے ہو کہ کیا ہے محبت

محبت خدا ہے،۔ خدا ہے محبت

جو دشمن ہے جاں کا اسے جان سمجھے

زمانے سے بالکل جدا ہے محبت

جگا دے نصیبوں کو جس کو ملے یہ

جو مل نہ سکے، تو سزا ہے محبت