بگڑیں نہ اپنی لونڈی پہ اتنا حضُور آپ
میں ہی قصور وار ہوں ہیں بے قصُور آپ
جو بات کے دھنی ہیں پلٹتے نہیں کبھی
پورا کریں گے قول کو اپنے ضرُور آپ
مینا بھی کچھ کہے گی تو ہو گی بہت بُری
اب بند رکھیں "چونچ" کو اپنی حضُور آپ
بندی دغل فصل سے بہت بھاگتی ہے دُور
اپنے ہی پاس رکھیے یہ اپنا "فتور" آپ
صُورت کی میں خراب ہوں، سیرت کی میں خراب
لے آئیے بہشت سے اب کوئی "حور" آپ
شیدا تو جُھک کے مِلتے ہیں دُنیا جہان سے
پائیں گی نام کو بھی نہ ان میں غرُور آپ
شیدا الہ آبادی
مولوی نثار حسین خاں
شیدا الہ آبادی کی شاعری میں انہوں نے عورت اور مرد دونوں کے خیالات و احساسات کی کُھل کر ترجمانی کی۔
No comments:
Post a Comment